اداکاراحمد رفیق اورماڈل قرۃالعین آزاد نے نکاح کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک) ابھرتے اداکار احمد رفیق اور ابھرتی ہوئی ماڈل قرۃالعین آزاد نے خاموشی سے نکاح کرکے سب کو حیران کردیا۔
احمد رفیق کے ڈرامے ’میری بہوئیں‘ کے کردار کو کافی پسند کیا جا رہا ہے جب کہ اس سے قبل ’نقاب‘ میں بھی ان کے کردار کو سراہا گیا تھا۔
علاوہ ازیں احمد رفیق کے دوسرے کرداروں کو بھی پسند کیا گیا جب کہ ان سے نکاح کے بندھن میں بندھنے والی قرت العین آزاد بھی متعدد منصوبوں میں کام کر چکی ہیں۔
قرۃالعین آزاد گلوکار حسن رحیم کے گانے کی ویڈیو سمیت مختلف فیشن شوز میں بھی جلوہ گر ہو چکی ہیں۔
دونوں نے نکاح سے قبل کبھی ایک دوسرے سے تعلقات کا اشارہ نہیں دیا تھا لیکن دونوں کے نکاح کی تصاویر سامنے آنے پر جہاں ان کے مداح حیران دکھائی دیے، وہیں سب نے خوشی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار احمد رفیق نے نکاح کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے مختصر کیپشن میں بتایا کہ انہوں نے نکاح کرلیا۔
اداکار نے بعد ازاں شریک حیات کے ساتھ دوسری رومانوی تصاویر بھی شیئر کیں، جن پر شوبز شخصیات سمیت مداحوں نے کمنٹس کرتے ہوئے انہیں نکاح کرنے کی مبارک باد پیش کی۔
احمد رفیق اور قرۃالعین آزاد کو نکاح پر معروف اداکاروں نے بھی مبارک باد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ماڈل قرۃالعین آزاد نے اگرچہ نکاح کی تصاویر فوری طور پر انسٹاگرام پر شیئر نہیں کیں، تاہم انہوں نے انسٹاگرام اسٹوریز میں اپنے نکاح کی وائرل ہونے والی تصایر کے دوسرے اکاؤنٹس کے لنکس شیئر کیے۔
احمد رفیق نے اگرچہ واضح کیا کہ انہوں نے نکاح کرکے نئی زندگی کا آغاز کردیا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ دلہن کو بیاہ کر لائیں ہیں یا ابھی رخصتی نہیں ہوئی؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔