Express News:
2026-06-03@02:19:12 GMT

لڑکی پر تشدد کی ویڈیو، متاثرہ نے خود سامنے آکر سب بتادیا

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی لڑکی پر انسانیت سوز تشدد اور بلیک میل کرنے کی ویڈیو سے متعلق نئی پیشرفت سامنے آئی جبکہ لڑکی کا ویڈیو پیغام بھی سامنے آگیا۔

خاتون پر بیہیمانہ تشدد ، حبس بے جا میں رکھ کر سر کے بال مونڈنے اور بینہ بلیک میل کرنے کا واقعہ اسلام آباد کے تھانہ لوہی بھیر کی حدود میں ظاہر کیا گیا تاہم یہ واقعہ راولپنڈی کا نکلا جس کے بعد اس کیس کو راولپنڈی پولیس کو ریفر کردیا گیا ہے۔

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پرخاتون کی مذکورہ ویڈیو وائرل ہونے پر ایس ایس پی آپریشنز کیپٹن ریٹائرڈ قاضی علی رضا نے انکوائری کا حکم دیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا۔

ملزمان کی گرفتاری کیلیے پولیس کی تین الگ الگ ٹیمیں تشکیل دی گئیں جنہوں نے متاثرہ لڑکی اور دیگر ملزمان کو حراست میں لیکر چار گھنٹے تک مکمل تحقیقات کیں۔

دوسری جانب ویڈیو کا بھی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تفصیلی معائنہ کیا گیا، مدعیہ اور ملزمان نے پولیس کو بیانات ریکارڈ کرائے جس میں ملزمان نے اعتراف کیا کہ لڑکی کے ان پر عائد الزامات درست ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ وقوعہ ڈیڑھ مہینہ پہلے راولپنڈی میں پیش آیا۔

اس پر ایس ایس پی کو رپورٹ پیش گئی جنہوں نے معاملہ متعلقہ راولپنڈی پولیس حکام کو کیس ریفر کرنے کی ہدایت کی۔

دوسری جانب وفاقی پولیس ترجمان نے بھی اپنے جاری بیان میں مذکورہ وقوعہ راولپنڈی میں ڈیڑھ مہینہ قبل پیش آنے کی تصدیق کی ہے۔

اُدھر راولپنڈی پولیس نے کہا کہ متاثرہ لڑکی کی جانب سے تاحال راولپنڈی پولیس کوکوئی تحریری شکایت نہیں دی جبکہ متاثرہ سے رابطہ کرلیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق لڑکی کچھ دیر میں پولیس کو بیان ریکارڈ کرانے پہنچے گی، جس کے بعد قانون کے مطابق مقدمہ درج کیا جائے گا۔

راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے ویڈیو بیان کے مطابق واقعہ تین تھانوں کی حدود میں پیش آیا ہے۔

اُدھر متاثرہ لڑکی کا ویڈیو سامنے آیا جس کے مطابق ’میرا نام ایمان ہے اور یہ آج سے ڈیڑھ مہینے پہلے پیش آیا‘۔

’ثنا نام کی لڑکی اور ارمان نام کا لڑکا مجھے اپنے فلیٹ مصریال روڈ لے گئے، انہوں نے مجھے مارا میرے بال کاٹے اور میری ویڈیو بھی بنائی، بعد ازاں مجھے مجھے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے فلیٹ لے کر گئے اور وہاں مجھے اسلحے کے دور پر دھمکا کر ویڈیو بنائی‘۔

لڑکی کے مطابق مصریال روڈ پر ارمان، درانی، مٹھو اور چوتھے نامعلوم چار لوگ تھے، جنہوں نے ویڈیو وائرل کی اور میں ملزمان کے خلاف کارروائی چاہتی ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: راولپنڈی پولیس کے مطابق پولیس کو

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں