پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن سندھ کااہم اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن – سندھ (PPA-Sindh) نے فارمیسی کریکولم سمٹ 2025 کے سلسلے میں ایک انڈسٹری اوراسپتالوں کے نمائندگان نے بھی ان نکات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کریکولم کا مؤثر نفاذ مریضوں کی حفاظت، ریگولیٹری تقاضوں کی پاسداری، تحقیقی صلاحیتوں اور مینوفیکچرنگ کے معیار کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اکیڈیمیا اور آجر اداروں کے درمیان مسلسل رابطے کی ضرورت پر زور دیا اور مطالبہ کیا کہ قومی ادارے کریکولم کی حتمی منظوری کے مراحل میں یونیورسٹیوں کی شمولیت کو یقینی بنائیں۔سمٹ کا آغاز پی پی اے سندھ کے صدر سید عدنان رضوی اور جامعہ کراچی کے ڈین و قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر محمد حارث شوائب کے خطاب سے ہوا، جنہوں نے فارمیسی تعلیم کے معیار کو بلند کرنے اور معاشرتی صحت کی بدلتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اجتماعی پیشہ ورانہ ذمہ داری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔دن بھر جاری سیشنز میں کریکولم فریم ورک کی ہم آہنگی، نفاذ میں حائل رکاوٹیں، اداروں کی صلاحیتوں میں فرق اور مرحلہ وار و معاون نفاذ کے روڈمیپ پر بات چیت ہوئی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ کے تمام اداروں کی رائے باضابطہ طور پر پاکستان فارمیسی کونسل اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کو پیش کی جانی چاہیے، تاکہ کریکولم کے حتمی اعلان سے قبل قومی سطح پر یکسانیت، عملی قابلیت، اور فارمیسی گریجویٹس کے معیار میں حقیقی بہتری کو یقینی بنایا جا سکے۔شرکا نے پی پی اے سندھ کی اس اہم پیش قدمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اتنی وسیع المشرب مشاورت فارمیسی سروسز کو مضبوط بنانے، پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنے، پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کی حمایت کرنے اور عوامی صحت کے نتائج کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔