علیمہ خان کے نام جائداد کی تفصیلات عدالت میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کے نام موجود جائداد کی تفصیلات عدالت میں پیش کردی گئیں۔ راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت ہوئی جہاں بھی علیمہ خان اور ان کے وکلا پیش نہیں ہوئے۔ عدالت نے مسلسل غیرحاضری پردسویں مرتبہ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ اس کے علاوہ پنجاب ریونیو بورڈ نے علیمہ خان کی جائیداد سے متعلق 38 اضلاع کے ڈی سیز کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ رپورٹ کے مطابق علیمہ خان کے نام پر ضلع بھکر میں 51 کنال 16 مرلے اراضی ہے، ضلع لاہور میاں موضع میر میں علیمہ خان کے نام پر ایک کنال 4 مرلے زمین ہے، موضع نور پور کمبواں لاہور میں علیمہ خان کے نام ایک کنال اراضی ہے۔ رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ تحصیل رائے ونڈ موضع سلطان میں علیمہ خان کے نام 64 کنال 14 مرلے اراضی ہے، ضلع میانوالی میں علیمہ خان کے نام 217 کنال 5 مرلے ہیں جب کہ موضع بازار شیخوپورہ میں علیمہ خان کے نام 4 کنال 13 مرلے اراضی ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب کے 4 اضلاع میں علیمہ خان کے نام کل 338 کنال اراضی علیمہ خان کے نام ہے۔ دوران سماعت پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے علیمہ خان کی مسلسل غیرحاضری پر پراپرٹی سیل کرنے کی استدعا کی اور بتایا کہ عدالتی حکم پرعلیمہ خان کے مختلف بینکوں میں 37 اکاؤنٹ فریز کردیے گئے ہیں۔ عدالت نے علیمہ خان کے ایک نجی بینک کے 15 اور دوسرے بینک کا ایک اکاؤنٹ فریز کرنے کے بھی احکامات جاری کیے۔ بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی سماعت 29 نومبر تک ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف تھانہ صادق آباد میں انسداد دہشتگردی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے جہاں علیمہ خان پر 26 نومبر کیاحتجاج میں جلاؤ، گھیراؤ، کارسرکار میں مداخلت اور کارکنوں کو پرتشدد احتجاج پر اکسانے کا الزام ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں علیمہ خان کے نام عدالت میں اراضی ہے
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔