Jasarat News:
2026-07-24@08:38:38 GMT

علیمہ خان کے نام جائداد کی تفصیلات عدالت میں پیش

اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251118-08-5
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کے نام موجود جائداد کی تفصیلات عدالت میں پیش کردی گئیں۔ راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت ہوئی جہاں بھی علیمہ خان اور ان کے وکلا پیش نہیں ہوئے۔ عدالت نے مسلسل غیرحاضری پردسویں مرتبہ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ اس کے علاوہ پنجاب ریونیو بورڈ نے علیمہ خان کی جائیداد سے متعلق 38 اضلاع کے ڈی سیز کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ رپورٹ کے مطابق علیمہ خان کے نام پر ضلع بھکر میں 51 کنال 16 مرلے اراضی ہے، ضلع لاہور میاں موضع میر میں علیمہ خان کے نام پر ایک کنال 4 مرلے زمین ہے، موضع نور پور کمبواں لاہور میں علیمہ خان کے نام ایک کنال اراضی ہے۔ رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ تحصیل رائے ونڈ موضع سلطان میں علیمہ خان کے نام 64 کنال 14 مرلے اراضی ہے، ضلع میانوالی میں علیمہ خان کے نام 217 کنال 5 مرلے ہیں جب کہ موضع بازار شیخوپورہ میں علیمہ خان کے نام 4 کنال 13 مرلے اراضی ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب کے 4 اضلاع میں علیمہ خان کے نام کل 338 کنال اراضی علیمہ خان کے نام ہے۔ دوران سماعت پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے علیمہ خان کی مسلسل غیرحاضری پر پراپرٹی سیل کرنے کی استدعا کی اور بتایا کہ عدالتی حکم پرعلیمہ خان کے مختلف بینکوں میں 37 اکاؤنٹ فریز کردیے گئے ہیں۔ عدالت نے علیمہ خان کے ایک نجی بینک کے 15 اور دوسرے بینک کا ایک اکاؤنٹ فریز کرنے کے بھی احکامات جاری کیے۔ بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی سماعت 29 نومبر تک ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف تھانہ صادق آباد میں انسداد دہشتگردی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے جہاں علیمہ خان پر 26 نومبر کیاحتجاج میں جلاؤ، گھیراؤ، کارسرکار میں مداخلت اور کارکنوں کو پرتشدد احتجاج پر اکسانے کا الزام ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں علیمہ خان کے نام عدالت میں اراضی ہے

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں