گولارچی، محتسب اعلیٰ کی کچہری ، شہریوں نے شکا یتوں کے انبار لگا دیے
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گولارچی (نمائندہ جسارت)ریجنل ڈائریکٹر صوبائی محتسب اعلیٰ بدین عبدالوہاب میمن کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر گولارچی کے دفتر میں کھلی کچہری منعقد کی گئی۔ کچہری میں شہریوں نے تعلیم، ریونیو، پولیس، واٹر سپلائی اسکیم، ٹاؤن آفس، این آر ایس پی، آبپاشی اور پبلک ہیلتھ سمیت مختلف محکمات سے متعلق درخواستیں پیش کیں ریجنل ڈائریکٹر عبدالوہاب میمن نے شہریوں کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کا جائز مسئلہ ضرور حل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی محتسبِ اعلیٰ سندھ محمد سہیل راجپوت کی ہدایات پر تعلقہ سطح پر کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری ہے تاکہ لوگوں کو اْن کے علاقوں میں انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے درخواست گزار عبدالکریم نے بتایا کہ چک نمبر 10 میں اساتذہ کی شدید کمی ہے، جہاں اسکول میں 70 بچے زیرِتعلیم ہیں لیکن پہلی سے پانچویں جماعت تک بچوں کو پڑھانے کے لیے صرف ایک ہی استاد موجود ہے۔ اسی چک میں کوئی سرکاری ڈسپنسری بھی نہیں ہے دیگر درخواست گزاروں فتح محمد، ڈاکٹر محمد ایوب چانڈیو، غلام دستگیر، محمد موسیٰ اور دیگر شہریوں نے بھی شکایات پیش کیں۔ شہر کے امن و امان سے متعلق صحافیوں نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شہر میں پولیس کی رٹ نظر نہیں آتی، چوری اور ڈکیتی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ منشیات کے خلاف پولیس اقدامات انتہائی مایوس کن ہیں۔ شہر میں ٹریفک کا نظام بھی بری طرح متاثر ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو بس ٹرمینل منتقل کیا جائے شہریوں نے سرکاری اسپتال میں علاج معالجے کی عدم سہولیات سے متعلق شکایات بھی پیش کیں، جس پر صوبائی محتسبِ اعلیٰ نے سول اسپتال گولارچی کا دورہ کیا۔ انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر کو ہدایت کی کہ اسپتال کی مانیٹرنگ کی جائے، کیونکہ 3 کروڑ 85 لاکھ روپے کے بجٹ کے باوجود عوام علاج کے لیے پریشان ہیں بعد ازاں انہوں نے فلٹر پلانٹ کا دورہ کیا، جو بند پایا گیا۔ محتسبِ اعلیٰ کی آمد کے بعد فلٹر پلانٹ کھولا گیا، جہاں پلانٹ آپریٹر نے بتایا کہ 24 گھنٹوں میں صرف 4 گھنٹے پانی سپلائی کیا جاتا ہے، جس پر صوبائی محتسبِ اعلیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ پانی کی فراہمی کا دورانیہ بڑھایا جائے آخر میں انہوں نے زبوں حالی کا شکار تعلقہ ایجوکیشن آفس کا بھی تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر گولارچی محمد عاطف شفیق، اے ڈی ایچ او ڈاکٹر رسول بخش میمن، ڈی ایس پی عبدالرحیم خاصخیلی، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر سرفراز سموں، اسسٹنٹ رجسٹرار محتسب بدین رضا محمد دل، مختیارکار دیدار نہڑیو، کمپیوٹر آپریٹر فراز حسن اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہریوں نے انہوں نے بتایا کہ
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔