Express News:
2026-07-24@00:52:44 GMT

شفافیت اور اعتماد، انشورنس صنعت کی ترقی کا ضامن 

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

پاکستان کا انشورنس شعبہ ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں ٹیکنالوجی کے فروغ اور لائف انشورنس کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث اس شعبے میں توسیع ہوئی ہے، تاہم ملک میں مجموعی انشورنس رسائی اب بھی خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ 

لاکھوں گھرانے آج بھی منظم مالی تحفظ کے بجائے غیر رسمی سہاروں پر انحصار کر رہے ہیں۔ اس شعبے کی ترقی صرف نئے پروڈکٹس لانے سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی بحالی، شفافیت، منصفانہ طرزِ عمل اور صارفین کی آگاہی سے ممکن ہوگی۔ انشورنس بنیادی طور پر اعتماد پر مبنی معاہدہ ہے۔ عام خدمات کے برعکس، انشورنس کا حقیقی فائدہ صرف اُس وقت سامنے آتا ہے جب کوئی کلیم پیدا ہوتا ہے۔

اگر صارفین کو اس بات کا یقین نہ ہو کہ وہ کیا خرید رہے ہیں یا اُن کے کلیمز کس حد تک پورے ہوں گے، تو اعتماد کم ہو جاتا ہے۔ یہ بے یقینی اکثر پیچیدہ پالیسی زبان، ناکافی معلومات یا نمائندگان کی غیر واضح رہنمائی کی وجہ سے جنم لیتی ہے۔ شفافیت کوئی تکنیکی تقاضا نہیں بلکہ انشورنس کاروبار کی بنیاد
 ہے۔ جب تک طریقہ کار واضح نہ ہوں، نہ تو مارکیٹنگ مددگار ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی مختلف النوع پروڈکٹس۔

وفاقی انشورنس محتسب کا ادارہ صارفین کی شکایات کے ازالے اور انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہر سال ہزاروں پالیسی ہولڈرز اپنا معاملہ اس ادارے کے سامنے لاتے ہیں، جن میں زیادہ تر شکایات کلیم میں تاخیر، کٹوتیوں یا پالیسی کی غلط تشریح سے متعلق ہوتی ہیں۔ محتسب کا دفتر صارف اور انشورر کے درمیان پُل کا کردار ادا کرتا ہے اور بروقت ریلیف فراہم کرتا ہے۔ اکثر مسائل بدنیتی کی بنیاد پر نہیں بلکہ طریقہ کار کی خامیوں، ناکافی معلومات اور پالیسی شقوں کی غیر یکساں تشریح سے پیدا ہوتے ہیں، جن کی نشاندہی ادارہ باقاعدگی سے کمپنیوں کو کرتا ہے۔

ایک اہم چیلنج یہ ہے کہ بہت سے صارفین پالیسی خریدتے وقت اس کی شرائط، اخراجات، ضروری دستاویزات یا حدودِ کوریج سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہوتے۔ نتیجتاً کلیم میں تاخیر یا انکار کی صورت میں تنازع جنم لیتا ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر میں بھی معلومات کی کمی اور ناکافی رابطہ صارفین کو مشکلات میں ڈالتا ہے۔ دستاویزات کو سادہ، جامع اور قابلِ فہم بنانا اور صارفین کے ساتھ بہتر رابطہ قائم کرنا، شکایات میں نمایاں کمی لا سکتا ہے۔

آئندہ اصلاحات کے سلسلے میں ڈیجیٹلائزیشن شفافیت بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے۔ ڈیجیٹل پالیسی اجرا، آن لائن کلیم ٹریکنگ اور خودکار نظام نہ صرف انسانی غلطیوں کو کم کرتے ہیں بلکہ ریکارڈ کی مضبوطی میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی بدولت وہ آبادی بھی انشورنس سہولتوں تک پہنچ سکتی ہے جو دور دراز علاقوں میں روایتی نیٹ ورک سے محروم ہیں۔

آبادی کا بڑا حصہ اب بھی نہیں جانتا کہ انشورنس کیسے کام کرتی ہے اور یہ کس طرح گھریلو مالی بوجھ سے بچا سکتی ہے۔ عوامی آگاہی مہمات، تعلیمی پروگرام اور مالی اداروں کے اشتراک سے اس سوچ میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے کہ انشورنس کوئی اضافی خرچ نہیں بلکہ ایک لازمی تحفظ ہے۔ بدلتے عالمی رجحانات کے پیشِ نظر پاکستان کو سائبر انشورنس، مائیکرو انشورنس اور شریعت کے مطابق پروڈکٹس جیسے جدید حل بھی اپنانے ہوں گے۔

ماحولیاتی تبدیلی نے انشورنس کے کردار کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ پاکستان میں حالیہ سیلابوں، غیر معمولی بارشوں اور درجہ حرارت میں اضافے نے زراعت، مویشیوں، رہائش اور چھوٹے کاروباروں کو شدید متاثر کیا ہے۔ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے موسم سے منسلک انڈیکس انشورنس، فصلوں اور مویشیوں کی انشورنس جیسے ماڈلز ناگزیر ہو چکے ہیں۔عوامی اور نجی شعبے کے اشتراک سے ہی یہ اسکیمیں بڑے پیمانے پر قابلِ عمل اور سستی بنائی جا سکتی ہیں۔

اعتماد کی بحالی اس شعبے کا سب سے بنیادی ہدف ہے۔ منصفانہ کلیم سیٹلمنٹ، شفاف رابطہ، اعتماد کی فضاء اور صارفین کے لیے آسان سہولیات وہ ستون ہیں جن پر اس صنعت کا مستقبل قائم ہوگا۔ وفاقی انشورنس محتسب کا ادارہ صارفین کےلیے ایک قابلِ اعتماد فورم کے طور پر موجود ہے، جبکہ بیمہ کمپنیوں کے لیے بھی محتسب کا ادارہ رکاوٹ کے بجائے اصلاح اور بہتری کا موثر ذریعہ ہے۔ پاکستان کو درپیش معاشی اور موسمیاتی چیلنجز کے تناظر میں انشورنس ایک مضبوط حفاظتی ڈھال ثابت ہو سکتی ہے، مگر یہ تبھی ممکن ہے جب شفافیت، انصاف اور عوامی اعتماد ہر پالیسی اور ہر فیصلے کا مرکز بنے رہیں۔ عوام کسی بھی شکایت کی صورت میں وفاقی انشورنس محتسب سے ان کی ویب سائٹ  www.

fio.gov.pk یا پھر ہیلپ لائن 1082 پررابطہ کرسکتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ محتسب کا ہیں بلکہ سکتی ہے کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف