Express News:
2026-06-02@22:34:50 GMT

شفافیت اور اعتماد، انشورنس صنعت کی ترقی کا ضامن 

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

پاکستان کا انشورنس شعبہ ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں ٹیکنالوجی کے فروغ اور لائف انشورنس کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث اس شعبے میں توسیع ہوئی ہے، تاہم ملک میں مجموعی انشورنس رسائی اب بھی خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ 

لاکھوں گھرانے آج بھی منظم مالی تحفظ کے بجائے غیر رسمی سہاروں پر انحصار کر رہے ہیں۔ اس شعبے کی ترقی صرف نئے پروڈکٹس لانے سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی بحالی، شفافیت، منصفانہ طرزِ عمل اور صارفین کی آگاہی سے ممکن ہوگی۔ انشورنس بنیادی طور پر اعتماد پر مبنی معاہدہ ہے۔ عام خدمات کے برعکس، انشورنس کا حقیقی فائدہ صرف اُس وقت سامنے آتا ہے جب کوئی کلیم پیدا ہوتا ہے۔

اگر صارفین کو اس بات کا یقین نہ ہو کہ وہ کیا خرید رہے ہیں یا اُن کے کلیمز کس حد تک پورے ہوں گے، تو اعتماد کم ہو جاتا ہے۔ یہ بے یقینی اکثر پیچیدہ پالیسی زبان، ناکافی معلومات یا نمائندگان کی غیر واضح رہنمائی کی وجہ سے جنم لیتی ہے۔ شفافیت کوئی تکنیکی تقاضا نہیں بلکہ انشورنس کاروبار کی بنیاد
 ہے۔ جب تک طریقہ کار واضح نہ ہوں، نہ تو مارکیٹنگ مددگار ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی مختلف النوع پروڈکٹس۔

وفاقی انشورنس محتسب کا ادارہ صارفین کی شکایات کے ازالے اور انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہر سال ہزاروں پالیسی ہولڈرز اپنا معاملہ اس ادارے کے سامنے لاتے ہیں، جن میں زیادہ تر شکایات کلیم میں تاخیر، کٹوتیوں یا پالیسی کی غلط تشریح سے متعلق ہوتی ہیں۔ محتسب کا دفتر صارف اور انشورر کے درمیان پُل کا کردار ادا کرتا ہے اور بروقت ریلیف فراہم کرتا ہے۔ اکثر مسائل بدنیتی کی بنیاد پر نہیں بلکہ طریقہ کار کی خامیوں، ناکافی معلومات اور پالیسی شقوں کی غیر یکساں تشریح سے پیدا ہوتے ہیں، جن کی نشاندہی ادارہ باقاعدگی سے کمپنیوں کو کرتا ہے۔

ایک اہم چیلنج یہ ہے کہ بہت سے صارفین پالیسی خریدتے وقت اس کی شرائط، اخراجات، ضروری دستاویزات یا حدودِ کوریج سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہوتے۔ نتیجتاً کلیم میں تاخیر یا انکار کی صورت میں تنازع جنم لیتا ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر میں بھی معلومات کی کمی اور ناکافی رابطہ صارفین کو مشکلات میں ڈالتا ہے۔ دستاویزات کو سادہ، جامع اور قابلِ فہم بنانا اور صارفین کے ساتھ بہتر رابطہ قائم کرنا، شکایات میں نمایاں کمی لا سکتا ہے۔

آئندہ اصلاحات کے سلسلے میں ڈیجیٹلائزیشن شفافیت بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے۔ ڈیجیٹل پالیسی اجرا، آن لائن کلیم ٹریکنگ اور خودکار نظام نہ صرف انسانی غلطیوں کو کم کرتے ہیں بلکہ ریکارڈ کی مضبوطی میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی بدولت وہ آبادی بھی انشورنس سہولتوں تک پہنچ سکتی ہے جو دور دراز علاقوں میں روایتی نیٹ ورک سے محروم ہیں۔

آبادی کا بڑا حصہ اب بھی نہیں جانتا کہ انشورنس کیسے کام کرتی ہے اور یہ کس طرح گھریلو مالی بوجھ سے بچا سکتی ہے۔ عوامی آگاہی مہمات، تعلیمی پروگرام اور مالی اداروں کے اشتراک سے اس سوچ میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے کہ انشورنس کوئی اضافی خرچ نہیں بلکہ ایک لازمی تحفظ ہے۔ بدلتے عالمی رجحانات کے پیشِ نظر پاکستان کو سائبر انشورنس، مائیکرو انشورنس اور شریعت کے مطابق پروڈکٹس جیسے جدید حل بھی اپنانے ہوں گے۔

ماحولیاتی تبدیلی نے انشورنس کے کردار کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ پاکستان میں حالیہ سیلابوں، غیر معمولی بارشوں اور درجہ حرارت میں اضافے نے زراعت، مویشیوں، رہائش اور چھوٹے کاروباروں کو شدید متاثر کیا ہے۔ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے موسم سے منسلک انڈیکس انشورنس، فصلوں اور مویشیوں کی انشورنس جیسے ماڈلز ناگزیر ہو چکے ہیں۔عوامی اور نجی شعبے کے اشتراک سے ہی یہ اسکیمیں بڑے پیمانے پر قابلِ عمل اور سستی بنائی جا سکتی ہیں۔

اعتماد کی بحالی اس شعبے کا سب سے بنیادی ہدف ہے۔ منصفانہ کلیم سیٹلمنٹ، شفاف رابطہ، اعتماد کی فضاء اور صارفین کے لیے آسان سہولیات وہ ستون ہیں جن پر اس صنعت کا مستقبل قائم ہوگا۔ وفاقی انشورنس محتسب کا ادارہ صارفین کےلیے ایک قابلِ اعتماد فورم کے طور پر موجود ہے، جبکہ بیمہ کمپنیوں کے لیے بھی محتسب کا ادارہ رکاوٹ کے بجائے اصلاح اور بہتری کا موثر ذریعہ ہے۔ پاکستان کو درپیش معاشی اور موسمیاتی چیلنجز کے تناظر میں انشورنس ایک مضبوط حفاظتی ڈھال ثابت ہو سکتی ہے، مگر یہ تبھی ممکن ہے جب شفافیت، انصاف اور عوامی اعتماد ہر پالیسی اور ہر فیصلے کا مرکز بنے رہیں۔ عوام کسی بھی شکایت کی صورت میں وفاقی انشورنس محتسب سے ان کی ویب سائٹ  www.

fio.gov.pk یا پھر ہیلپ لائن 1082 پررابطہ کرسکتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ محتسب کا ہیں بلکہ سکتی ہے کے لیے

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور