الیکشن بیانیے سے نہیں کارکردگی سے جیتے جاتے ہیں: مریم نواز شریف
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک :وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ الیکشن بیانیے سے نہیں کارکردگی سے جیتے جاتے ہیں۔
لاہور میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے صوبائی وزرا اور سیکرٹریز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے قیدی نمبر 804 کے نام پر الیکشن لڑا پھر بھی شکست ہوئی۔
میاں نواز شریف اور میں نے جیل کاٹی مگر الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کیا،آج فیض حمید ہے نہ الیکشن جتوانے والے ججز
پاکستان نےسنوکر ورلڈکپ کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا
ملکی ترقی کو 2018میں ڈی ریل کیا گیا ،الیکشن بیانیے سے نہیں کارکردگی سے جیتے جاتے ہیں۔
پشاور میں ترقی کا کوئی نام و نشان نہیں،کے پی میں سرکاری مشینری کے ساتھ الیکشن لڑا گیا ۔
خیبر پختونخوا پتھر کے دور میں چلا گیا ، کرپشن کے ڈھیر لگ گئے ہیں،مسلم لیگ ن نے 2018 میں چھینی گئی نشستیں واپس لے لی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔