لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے لاہور سمیت کسی بھی ایسے شہر میں ایک بھی ترقیاتی منصوبے کا افتتاح نہیں کیا جہاں ضمنی انتخابات جاری ہیں۔ مریم نواز نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے کسی لیگی امیدوار کی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیا۔ سہیل آفریدی الیکشن کمشن سے ملنے والے نوٹس کو چھپانے اور اپنی سیاسی سبکی سے توجہ ہٹانے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب پر الزامات لگا رہے ہیں۔ سہیل آفریدی خود اپنے لیڈر کی روش پر چلتے ہوئے مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سہیل آفریدی کے  بیان پر رد عمل میں کیا۔ وزیر اطلاعات نے نشاندہی کی کہ سہیل آفریدی نے خود سرکاری افسروں کو ‘‘کل کا سورج نہ دیکھنے’’ جیسی کھلی دھمکیاں دیں، جس کی ویڈیوز اور بیانات عوام کے سامنے موجود ہیں۔ ایسے بیانات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دھونس اور دھمکیوں کی سیاست تحریک انصاف کا مستقل وطیرہ ہے۔ سہیل آفریدی خود شہر ناز کی انتخابی مہم چلانے پہنچے، لیکن اس کے باوجود وزیراعلیٰ پر بے تْکی تنقید کر رہے ہیں۔ مریم نواز کی عوامی خدمت کا دائرہ انتخابی سیاست سے بالاتر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی مریم نواز رہے ہیں

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم