بہاولپور: ایم 5 پر بس کی ٹکر سے پولیس موبائل تباہ، 3 اہلکار جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بہاولپور میں ایم 5 موٹروے پر ہونے والا ٹریفک حادثہ ایک افسوسناک المیے میں بدل گیا، جہاں ایک تیز رفتار بس نے پیٹرولنگ پر موجود موٹروے پولیس کی موبائل کو پیچھے سے ٹکر دے دی۔ اس اچانک تصادم نے موقعے کی فضا سوگوار کردی اور حادثے میں تین اہلکار اپنی جان کی بازی ہار گئے۔
حادثہ اُوچ شریف کے قریب پیش آیا، جہاں معمول کی نگرانی پر مامور موٹروے پولیس کی گاڑی کو بس نے زور دار ٹکر مار دی۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ اہلکار موقع پر ہی دم توڑ گئے اور گاڑی بُری طرح تباہ ہوگئی۔ موٹروے پولیس کے مطابق جاں بحق اہلکاروں کی شناخت اور دیگر قانونی کارروائی مکمل کی جارہی ہے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچیں۔ تینوں اہلکاروں کی لاشیں احترام کے ساتھ اسپتال منتقل کردی گئیں، جہاں ضروری انتظامات مکمل کیے جارہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔
اس المناک حادثے نے موٹروے پولیس کے ادارے اور اہلکاروں کے خاندانوں کو گہرے صدمے سے دوچار کردیا ہے۔ ڈیوٹی پر موجود جوانوں کی شہادت نے ایک بار پھر یاد دلایا ہے کہ سڑکوں پر عوام کے تحفظ کے لیے پولیس ہر لمحہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: موٹروے پولیس
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔