پشاور؛ ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ، 3 دہشتگرد مارے گئے، 3 اہلکار شہید WhatsAppFacebookTwitter 0 24 November, 2025 سب نیوز

پشاور:(آئی پی ایس)
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ کیا گیا، جس میں تینوں دہشت گرد مارے گئے۔

تفصیلات کے مطابق ایک خودکش بمبار نے اپنے آپ کو ایف سی ہیڈکوارٹر کے گیٹ پر دھماکے سے اُڑا دیا۔ جس کے بعد دیگر دو حملہ آوروں نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ فورسز نے فوراً آپریشن کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔

فورسز کے آپریشن میں 3 ایف سی اہل کار شہید اور 2 زخمی ہو ئے ہیں۔ واقعے کے فوراً بعد ریسکیو اداروں کے اہل کار اور ایمبولینسز جائے وقوع پر پہنچیں، جنہوں نے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔

قبل ازیں ایس پی کینٹ نے ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ آج صبح ہونے والے دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لیا جب کہ پولیس، ایلیٹ فورس اور دیگر اداروں کی نفری کو فوری طور پر طلب کرلیا گیا تھا۔

واقعے کے فوراً بعد کینٹ روڈ سمیت ملحقہ علاقوں کے راستوں کو عوام اور ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کردیا گیا تھا۔ سی سی پی او میاں سعید کے مطابق ایف سی ہیڈکوارٹر صدر میں حملے کے بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچی، جہاں آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں خود آپریشن کو لیڈ کررہا ہوں ۔ دھماکے کے بعد شہر میں بی آر ٹی سروس کو بند کردیا گیا ہے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق حملے کے فوراً بعد 6 ایمبولینسز، فائر وہیکل، ڈیزاسٹر وہیکل اور 50 سے زائد اہل کار موقع پر پہنچے۔ دوسری جانب طبی ذرائع نے بتایا کہ 9 زخمیوں کو ایل آر ایچ منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت تسلی بخش ہے، جن میں ایف سی اہلکار اور عام شہری دونوں شامل ہیں جب کہ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

بعد ازاں آئی جی خیبر پختونخوا نے بتایا کہ ایف سی ہیڈکوارٹر پر 3 دہشت گردوں نے حملہ کیا، جو اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ سی سی پی او پشاور کے مطابق کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پشاور میں صدر کے علاقے میں کوہاٹ روڈ پر آج صبح تقریباً 8 بجے فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی ناکام کوشش کی۔ایک دہشت گرد نے گیٹ پر خودکش دھماکا کیا، جس کے بعد 2 دہشت گردوں نے اندر گھسنے کی کوشش کی، جنہیں مار دیا گیا۔

حملے میں ایف سی کے 3 اہل کار شہید ہوئے جب کہ 2 زخمی ہیں ۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور علاقے کی کلیئرنس کی جا رہی ہے۔

صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی شدید مذمت

صدر مملکت، وزیراعظم اور وفاقی وزیر داخلہ نے ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے شہدا کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملہ وطنِ عزیز کے خلاف بیرونی پشت پناہی میں سرگرم خارجی دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی ہے۔

صدر زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ وطنِ عزیز سے بیرونی پشت پناہی میں سرگرم خوارج کی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے سکیورٹی فورسز اور پولیس کی بروقت اور جرات مندانہ کارروائی کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نےا پنے بیان میں کہا کہ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کی بدولت بڑے نقصان سے بچ گئے۔ انہوں نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے جلد از جلد صحت یابی کی دعا کی۔

شہباز شریف نے کہا کہ واقعے کے ذمہ داران کی جلد از جلد شناخت کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ پاکستان کی سالمیت پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔ حکومت پاکستان ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھی فتنۃ الخوارج کا حملہ ناکام بنانے پر ایف سی کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ایف سی کے بہادر جوانوں نے حملے کو ناکام بنایا۔ حملہ آور دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر فیڈرل کانسٹیبلری کے جوانوں کی جرات کو سلام پیش کرتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرضمنی الیکشن میں ووٹ ڈالنے کی ویڈیو وائرل ہونے پر عابد شیر علی کیخلاف کارروائی، نوٹس جاری ضمنی الیکشن میں ووٹ ڈالنے کی ویڈیو وائرل ہونے پر عابد شیر علی کیخلاف کارروائی، نوٹس جاری پاکستان نے زمبابوے کو یک طرفہ مقابلے میں شکست دے کر سہ فریقی سیریز کے فائنل میں جگہ بنالی، عثمان طارق کی ہیٹرک ضمنی انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ، قومی اسمبلی کی 5، صوبائی کی 6نشستوں پر ن لیگ کو برتری ، این اے18ہری.

.. ضمنی الیکشن پرامن رہا، دنیا بھر میں انتخابات میں خلاف ورزیاں ہوتی ہیں، سکندر سلطان راجہ منشیات کے دھندے میں پی ٹی آئی کے تمام عہدیدار شامل ہیں، اختیار ولی خان وزیراعظم نے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی تشکیل نوکردی، نوٹیفکیشن جاری TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار