بے اختیار لوگوں سے مذاکرات کا فائدہ نہیں،سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
تمام پارٹیوں کیلئے ایک جیسا لیول پلیئنگ فیلڈ مہیا کریں تو حالات بہتر ہوجائیں گے
میرے پاس عمران خان سے ملنے کے لیے احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں، وزیراعلیٰ
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بیاختیار لوگوں سے مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں،تمام پارٹیوں کیلئے ایک جیسا لیول پلیئنگ فیلڈ مہیا کریں گے تو حالات بہتر ہو جائیں گے ،میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ تمام پارٹیوں کیلئے ایک جیسا لیول پلیئنگ فیلڈ مہیا کریں گے تو حالات بہتر ہوجائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ بے اختیار لوگوں سے مذاکرات کرنے کا فائدہ نہیں، میرے پاس لیڈر سے ملنے کے لیے احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں۔وزیراعلی خیبر پختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے صوبائی اسمبلی سے قرارداد منظور کی، چیف جسٹس کو خط لکھا، ہائیکورٹ میں پٹیشن بھی دائر کی۔انہوںنے کہاکہ حکومت کے ہر وار کا توڑ میرے پاس ہے ، بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنائی لیکن ان کے پاس اختیار نہیں۔سہیل آفریدی نے کہا کہ اڈیالہ صرف بات کرنے جا رہا ہوں کبھی ایف آئی اے کبھی الیکشن کمیشن کا نوٹس آجاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے مجھے جلسے کے بعد طلب کرلیا، مریم نواز کے خلاف کوئی نوٹس نہیں لیا، الیکشن کمیشن سب کو ایک نظرسے دیکھے ۔وزیراعلی خیبر پختونخوا نے کہا کہ لاہور میں ضمنی الیکشن کے دور ان وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز وہاں ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کر رہی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔