حزب الله کے سینئر کمانڈر شہید ھیثم علی طباطبائی کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
وہ ان کمانڈروں میں سے تھے جنہوں نے لبنان کی مشرقی سرحدوں پر تکفیری گروہوں کے خلاف آپریشنز کی منصوبہ بندی كی اور انہیں کامیابی سے چلایا۔ وہ 2024ء میں "اولی الباس" آپریشن کے کمانڈر بھی رہے۔ اسکے بعد وہ اپنی شہادت تک، لبنان کی مقاومت اسلامی کے سینئر فوجی کمانڈر رہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہید ہیثم علی طباطبائی، "ابو علی" کے نام سے مشہور تھے۔ آپ 5 نومبر 1968ء کو بیروت کے علاقے "الباشورہ" میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اسلامی مزاحمت کے قیام کے وقت ہی اس میں شمولیت اختیار کی۔ متعدد عسکری اور کمانڈ کورسز مکمل کیے۔ سال 2000ء میں جنوبی لبنان کی آزادی سے پہلے، اسرائیلی فوج اور اس کے حواریوں کے خلاف بہت سی اہم و مشہور فوجی كارروائیوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے 1993ء اور 1996ء میں بھی لبنان پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا، سال 1996ء سے 2000ء میں آزادی تک صیہونی دشمن کے خلاف "نبطیہ" کی ذمہ داری سنبھالی۔ انہوں نے مقبوضہ لبنانی شبعا فارمز کے علاقے "برکہ النقار" میں صیہونی فوجیوں کو گرفتار کرنے کے ایک آپریشن کے قیادت کی۔ انہوں نے 2000ء سے 2008ء تک "خیام" كے محاذ کی ذمہ داری سنبھالی، اس دوران اسی محاذ سے جولائی 2006ء میں ہونے والے اسرائیلی حملے کے خلاف مردانہ وار مزاحمت كی۔
اس کے بعد شهید هیثم علی طباطبائی نے اسلامی مزاحمت کی کمانڈو فورسز کی ذمہ داری سنبھالی۔ انہوں نے شہید "عماد مغنیہ" کے بعد، رضوان فورس کے قیام اور ترقی میں حصہ لیا۔ وہ ان کمانڈروں میں سے تھے جنہوں نے لبنان کی مشرقی سرحدوں پر تکفیری گروہوں کے خلاف آپریشنز کی منصوبہ بندی كی اور انہیں چلایا۔ وہ 2024ء میں "اولی الباس" آپریشن کے کمانڈر بھی رہے۔ اس کے بعد وہ اپنی شہادت تک، لبنان کی مقاومت اسلامی کے سینئر فوجی کمانڈر رہے۔ یاد رہے کہ لبنان کی مقاومتی تحریک "حزب الله" نے گزشتہ روز اتوار کی شام ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے اپنے عظیم مجاہد کمانڈر ہیثم علی طباطبائی المعروف سید ابو علی کی شہادت کا اعلان کیا۔ بیان میں حزب الله نے بتایا کہ وہ بیروت کے جنوبی علاقے "حارة حریک" پر صیہونی رژیم کے فضائی حملے میں شہید ہوئے۔ واضح رہے کہ قابض اسرائیل نے گزشتہ شام بیروت کے جنوبی علاقے کو ہدف قرار دیتے ہوئے لبنان پر فضائی حملہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علی طباطبائی انہوں نے لبنان کی کے خلاف کے بعد
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔