غزہ لبنان نہیں ہے‘‘ حماس نے جنگ بندی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی دے دی WhatsAppFacebookTwitter 0 23 November, 2025 سب نیوز

غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کے جاری رہنے کے ساتھ ’’ العربیہ/ الحدث ‘‘ کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حماس نے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر کو آگاہ کیا ہے کہ معاہدہ ختم ہو گیا ہے اور وہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔
ذرائع نے مزید کہا کہ تحریک حماس نے وٹکوف کو بتایا ہے کہ جنگ بندی دونوں اطراف سے ہونی چاہیے۔ حماس نے زور دیا کہ غزہ لبنان نہیں ہو گا۔ یہ معلومات اس وقت سامنے آئیں جب ’’ العربیہ/ الحدث ‘‘ کے نامہ نگار نے بتایا کہ اسرائیلی افواج نے غزہ پر کئی فضائی حملے کیے جس سے غزہ میں 10 افراد شہید ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے حماس کے اہداف پر اس وقت بمباری کی جب ایک مسلح شخص نے اس کے فوجیوں پر فائرنگ کی تھی۔

معاہدے کی صریح خلاف ورزی

حماس نے ہفتہ کو اس سے قبل ثالثوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ اسے جنگ بندی کے معاہدے پر عمل کرنے کا پابند بنایا جائے۔ تحریک نے ایک پریس بیان میں وضاحت کی کہ اسرائیل روزانہ ییلو لائن کو ہٹانا اور پٹی کے اندرونی علاقوں میں مغرب کی طرف پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے جس سے نئی اجتماعی نقل مکانی ہوئی ہے۔ حماس نے اسے معاہدے کی شقوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔

حماس نے مزید کہا کہ منظم خلاف ورزیوں کے نتیجے میں گزشتہ دنوں کے دوران سینکڑوں افراد شہید ہوگئے ہیں جو فضائی حملوں اور من گھڑت بہانوں کے تحت جاری قتل و غارت گری کا نتیجہ ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فوج اپنی پسپائی کی لائنوں کو ان نقشوں کے خلاف تبدیل کر رہی ہے جن پر پہلے اتفاق کیا گیا تھا۔ تحریک حماس نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی جانب سے کسی بھی ایسی نئی حقیقت کو مسلط کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا جو طے شدہ مفاہمت کے خلاف ہو۔ حماس نے ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کریں اور ان خلاف ورزیوں کو فوراً روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

حماس نے امریکی انتظامیہ پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرے اور اسرائیل کو اپنے وعدوں پر عمل کرنے کا پابند بنائے اور غزہ میں جنگ بندی کے عمل کو سبوتاژ کرنے سے روکے۔ واضح رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد 10 اکتوبر کو شروع ہوا تھا تاہم پٹی کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملے اب تک نہیں رکے ہیں۔ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی اسرائیلی فوج اب تک کئی سو فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراٹھائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کوئی بات زیر غور نہیں، وفاقی وزیر اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کوئی بات زیر غور نہیں، وفاقی وزیر پاکستان کو ڈیجیٹل دنیا سے مزید جوڑنے کی جانب پیشرفت، عالمی سطح کی سب میرین کیبل کراچی پہنچ گئی جی 20 اجلاس: فلسطین، سوڈان، یوکرین اور کانگو کے تنازعات کے منصفانہ حل کا مطالبہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے مسلسل حملے جاری، حماس نے ثالثوں سے فوری مداخلت کی اپیل کردی پاک افغان سرحدی بندش؛ افغانستان کو کتنے ملین ڈالر کا نقصان ہونے لگا؟ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے وفد کا اسکانکم کا دورہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان