WE News:
2026-06-03@03:49:42 GMT

بیروت پر اسرائیلی فضائی حملہ، حزب اللہ کے چیف آف اسٹاف شہید

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

اسرائیلی جارحیت کیخلاف برسرپیکار حزب اللہ نے تصدیق کی ہے کہ اس کے اعلیٰ فوجی کمانڈر ہيثم علی طباطبائی، لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔

طباطبائی، جو تنظیم کے عسکری ونگ کے چیف آف اسٹاف تھے، اتوار کے روز جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں حزب اللہ کے گڑھ میں ایک اپارٹمنٹ عمارت پر حملے میں کم از کم 5 دیگر افراد کے ساتھ شہید ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ پر حملے تیز کرنے کی دھمکی دے دی

حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’عظیم کمانڈر‘ طباطبائی جنوبی بیروت کے علاقے حارة حریک پر اسرائیلی بزدلانہ حملے میں شہید ہوئے۔ بیان میں ان کے عہدے کی صراحت نہیں کی گئی۔

???? ???????? ???????? IDF STRIKES HEZBOLLAH'S LEADERSHIP: HAYTHAM ALI TABATABAI REPORTEDLY DEAD

The IDF just reportedly eliminated Haytham Ali Tabatabai in a strike on Beirut's southern suburbs.

Israeli officials confirmed the target: Hezbollah's de facto military chief and top operational… https://t.co/B86x0RjIzc pic.twitter.com/FdYTBh0AXd

— Mario Nawfal (@MarioNawfal) November 23, 2025

طباطبائی نومبر 2024 میں شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل کے ہاتھوں شہید ہونے والے حزب اللہ کے سب سے سینیئر کمانڈر ہیں۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے حملے میں طباطبائی کو ’ختم‘ کر دیا ہے، جب کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ وہی اس حملے کا ہدف تھے۔

مزید پڑھیں: لبنان حزب اللہ کو ملک بدر کرے ورنہ غزہ جیسے حالات کے لیے تیار رہے، اسرائیلی وزیراعظم

اسرائیلی میڈیا کے مطابق گزشتہ سال کی جنگ کے بعد یہ تیسری کوشش تھی جس میں انہیں نشانہ بنایا گیا۔

حزب اللہ کے سینئر رہنما محمود قماطی نے کہا تھا کہ اسرائیلی حملہ ’سرخ لکیر‘ پار کرنا ہے اور تنظیم کی قیادت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا اس کا جواب دیا جائے یا نہیں۔

’آج جنوبی بیروت کے مضافات پر حملہ پورے لبنان میں اسرائیلی جارحیت میں اضافے کا دروازہ کھول سکتا ہے۔‘

مزید پڑھیں:اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی پر عملدرآمد کا آغاز

طباطبائی 1968 میں بیروت میں ایک لبنانی ماں اور ایک ایرانی والد کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے جنوبی لبنان میں پرورش پائی اور 12 سال کی عمر میں حزب اللہ میں شمولیت اختیار کی۔

لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق حملے میں 28 افراد زخمی بھی ہوئے۔

سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) نے رپورٹ کیا کہ حارة حریک کے شارع العريض پر واقع عمارت پر 2 میزائل داغے گئے جس سے گاڑیوں اور اردگرد کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔

مزید پڑھیں:حزب اللہ کے نئے سربراہ نعیم قاسم کون ہیں؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق لبنان میں خدشات بڑھ رہے ہیں کہ اسرائیل، جو اب تک مکمل بے خوفی سے کارروائیاں کر رہا ہے، اپنے حملوں میں مزید اضافہ کرے گا۔

حزب اللہ ایک مشکل پوزیشن میں ہے۔ اس کی مزاحمتی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے، اور اگر جواب نہ دیا تو مزید اسرائیلی حملوں کو دعوت مل سکتی ہے۔

جبکہ جواب دینے کی صورت میں وسیع اسرائیلی بمباری کا خطرہ ہے، جو اس کی عوامی حمایت کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘

مزید پڑھیں:اسرائیل کو لبنان پر حملوں کی قیمت چکانا ہوگی، حزب اللہ کی دھمکی

لبنانی صدر جوزف عون نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اسرائیلی حملوں کو روکنے کے لیے فوری اور مضبوط مداخلت کرے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ لبنان بار بار عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھائے اور اسرائیلی حملوں کو روکنے کے لیے سنجیدگی سے کارروائی کرے۔

اسرائیل نے ایک سال قبل جنوبی بیروت میں فضائی حملے میں دیرینہ حزب اللہ سربراہ حسن نصراللہ کو بھی شہید کر دیا تھا۔

مزید پڑھیں:لبنان: اسرائیلی حملوں میں حزب اللہ کے اہم کمانڈر سمیت 13افراد ہلاک، 60 سے زائد زخمی

اتوار کا یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب صرف چند روز بعد پوپ لیو چہاردہم لبنان کے دورے پر آنے والے ہیں، اور حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی جارحیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

حزب اللہ کے رکن اسمبلی علی عمار نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل پورے لبنان کو نشانہ بنا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل بیروت جوزف عون حزب اللہ حسن نصراللہ فوجی کمانڈر لبنان

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل بیروت حزب اللہ حسن نصراللہ فوجی کمانڈر اسرائیلی حملوں میں حزب اللہ جنوبی بیروت حزب اللہ کے مزید پڑھیں حملے میں کے لیے نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان