Express News:
2026-07-24@04:47:45 GMT

غزہ سیز فائر، مستقبل پر سنگین سوالات

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

اسرائیلی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھی اور غزہ پر فضائی حملے میں حماس کے عسکری ونگ القسام کے کمانڈر کو شہید کردیا۔ عرب سفارت کار نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس رہنماؤں نے عرب ثالثوں کو اپنا ایک اہم اور حتمی پیغام پہنچا دیا ہے کہ اگر اسرائیل کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیاں جاری رہیں تو وہ غزہ میں جاری جنگ بندی کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جانب غزہ میں سیز فائر کی خلاف ورزیاں ہیں، 5بچوں سمیت 21 افراد شہید ہوگئے ، سرد موسم سے بے گھر خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔

غزہ کے افق پر چھائے ہوئے سیاہ دھوئیں اور معصوموں کے خون سے رنگی ہوئی زمین آج ایک بار پھر اسی کربناک حقیقت کو دہرا رہی ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے، بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کی اپیلیں اور عالمی اداروں کی قراردادیں اسرائیل کی جارحیت کے سامنے بارہا بے بس ثابت ہو چکی ہیں۔

اسرائیلی فوج نہ صرف جنگ بندی کے اعلان کو یکسر نظرانداز کر رہی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی عسکری جارحیت کو مزید وسعت دیتے ہوئے غزہ کے ہر گوشے کو میدانِ جنگ میں تبدیل کر چکی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کے عسکری ونگ القسام کے ایک اہم کمانڈر کو شہید کر دیا گیا۔ یہ واقعہ محض ایک فرد کی شہادت نہیں بلکہ جنگ بندی کے اس نازک معاہدے پر کھلی ہوئی ضرب ہے جو پہلے ہی کمزور بنیادوں پر کھڑا تھا۔ اس حملے نے غزہ میں جاری سیز فائر کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور خطے میں امن کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

حماس کی قیادت نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کو منسوخ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے، خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اس اعلان میں چھپی ہوئی بے بسی، اضطراب اور اضطراری فیصلہ سازی دراصل اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ غزہ کے عوام کتنی غیر انسانی صورتِ حال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ نہ صرف اسرائیلی بمباری کا سامنا کرتے ہیں بلکہ انسانی امداد کی عدم دستیابی، پناہ اور سہولیات کے فقدان، بھوک، سردی اور وباؤں جیسے چیلنجز بھی ان کے مقدر سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

غزہ میں گزشتہ چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں نے جس طرح شدت اختیار کی ہے، وہ سیز فائر کی روح کے بالکل منافی ہے۔ جنگ بندی کے 10 اکتوبر کے اعلان کے بعد سے اب تک 318 فلسطینی شہید اور 788 زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ جنگ، جو اکتوبر 2023 میں شروع ہوئی، اب تک تقریباً 70 ہزار فلسطینیوں کی جان لے چکی ہے۔

ستر ہزار کے قریب شہادتیں، ایک لاکھ ستر ہزار سے زائد زخمی، یہ اعداد محض اعداد نہیں بلکہ ایک ایسے المیے کی گہری تصویر ہیں جس کی نظیر شاید جدید انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔اسرائیل کی جانب سے غزہ سٹی کے مختلف علاقوں میں گھروں کی مسماری کی کارروائیوں میں بھی تیزی آ گئی ہے۔

فلسطینی سول ڈیفنس کے مطابق بفر زون میں 250 میٹر کا مزید اضافہ کر کے اسرائیل نے سیکڑوں خاندانوں کو ایسی جگہوں پر دھکیل دیا ہے جہاں پانی، بجلی، صفائی اور بنیادی ضروریات زندگی کا کوئی انتظام نہیں۔ یہ فیصلہ محض علاقوں کے قبضے یا عسکری حکمتِ عملی کا حصہ نہیں بلکہ اس کا براہِ راست تعلق اس اجتماعی سزا سے ہے جو اسرائیل غزہ کے شہریوں پر عرصہ دراز سے مسلط کیے ہوئے ہے۔ سرد موسم کی شدت نے ان بے گھر خاندانوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ نہ مناسب پناہ گاہیں، نہ کمبل، نہ گرم کپڑے، نہ وافر خوراک۔ یہ لوگ صرف اپنی سانسوں اور امید کے سہارے زندہ ہیں، اگر فوری انسانی امداد نہ پہنچی یا جنگ بندی کی پاسداری نہ کی گئی تو اموات میں مزید اضافے کا اندیشہ ہے، خصوصاً بچوں اور ضعیف افراد کے لیے صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔

 عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں، گھروں کی مسماری اور مکمل محاصرے نے غزہ کے شہر کو ایک ایسے کھنڈر میں بدل دیا ہے جہاں اب زندگی کی رمق تلاش کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ گنجان آباد علاقوں میں بھی اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں۔ ڈاکٹرز بغیر ادویات، بغیر بجلی، بغیر آلات کے زخموں سے نڈھال بچوں اور عورتوں کا علاج کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں عالمی برادری کی خاموشی اور بین الاقوامی اداروں کی بے عملی ایک ایسا باب رقم کر رہی ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ عالمی طاقتیں محض اپیلوں اور بیانات پر اکتفا کر رہی ہیں۔

طاقتور ممالک اپنی سیاسی ترجیحات کے بوجھ تلے انسانی جانوں کی قدر بھول چکے ہیں۔ ایک طرف سیکڑوں بے گناہ بچے ملبے تلے دفن ہیں، دوسری طرف عالمی فورمز پر طاقتور فریقوں کے درمیان سیاسی مفادات کی کشمکش جاری ہے۔ یہ کیسی دنیا ہے جو انسانی حقوق کی علمبرداری کرتی ہے مگر فلسطینیوں کے خون سے لکھی فریادیں اس کے لیے بے معنی ہیں؟

حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا جو معاہدہ ہوا، وہ اپنی ابتدا سے ہی غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار تھا۔ اسرائیلی حکومت کے اندرونی دباؤ، انتہا پسند عناصر کی جارحانہ سوچ، عسکری کمان کے سخت گیر رویے اور سیاسی قیادت کی کمزور فیصلہ سازی نے اس معاہدے کو کمزور بنیادوں پر چھوڑ دیا تھا۔ دوسری جانب حماس کے لیے بھی یہ معاہدہ آسان نہیں تھا۔

غزہ کے عوام کی حالتِ زار، اسیرانِ جنگ کا مسئلہ، تباہ شدہ انفرا اسٹرکچر کی بحالی اور اسرائیلی حملوں کے تسلسل نے حماس پر بھی دباؤ بڑھایا ہے۔ ایسے میں سیز فائر کی خلاف ورزیاں محض ایک عسکری واقعہ نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی ہیں کہ اسرائیل اس جنگ بندی کو لمبی مدت تک قائم رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ یہ کارروائیاں بظاہر اسرائیلی دفاع کے نام پر کی جاتی ہیں مگر حقیقت میں یہ طاقت کا غیر متوازن استعمال ہے جو پوری آبادی کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر کب تک فلسطینی عوام اس ظلم کے شکار رہیں گے؟ کب تک عالمی برادری اسرائیلی جارحیت کو نظرانداز کرتی رہے گی؟ کیا فلسطینیوں کا خون اس قدر ارزاں ہے؟ کیا ستر ہزار شہادتیں عالمی ضمیر کو جگانے کے لیے کافی نہیں؟ جواب شاید دنیا کی بے حسی میں چھپا ہوا ہے۔

طاقتور ممالک کے لیے مشرقِ وسطیٰ محض اسٹرٹیجک مفادات کا میدان ہے، انسانی حقوق نہیں۔ ان طاقتوروں کی آنکھوں پر مفادات کی پٹی بندھی ہوئی ہے اور کانوں میں ان فلسطینی بچوں کی چیخیں بھی سنائی نہیں دیتیں جو ہر روز ملبے کے نیچے سسکتے ہوئے دم توڑ دیتے ہیں۔اسرائیلی ڈرون حملے، فضائی بمباری، گھروں کی مسماری، بفر زون کے پھیلاؤ اور محاصرے کے باعث غزہ کا ہر روز نیا منظر سامنے آتا ہے۔ کہیں ماں اپنے بچوں کی لاشوں کو گود میں لیے بین کرتی ہے، کہیں باپ ملبے تلے دبے اپنے خاندان کی تلاش میں سرگرداں ہے، کہیں ڈاکٹر بغیر سامان کے اسپتال میں موت اور زندگی کے درمیان معلق زخمیوں کا علاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کہیں امدادی کارکن حملوں کے خوف سے غیر فعال ہو چکے ہیں۔

غزہ کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو اس درد سے آزاد ہو۔ ہر دن ایک نیا المیہ جنم لیتا ہے، ہر رات ایک نئی چیخ سنائی دیتی ہے۔اس پس منظر میں حماس کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کی دھمکی محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ حالات کی سنگینی کی حقیقی عکاس ہے۔ وہ ایک ایسی صورتِ حال کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جہاں مزید صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ممکن نہیں رہا۔ اگر اسرائیل مسلسل جارحیت جاری رکھتا ہے تو سیز فائر کا جاری رہنا خود ایک مذاق بن جائے گا۔ امن کا کوئی بھی معاہدہ باہمی اعتماد اور احترام کا محتاج ہوتا ہے۔ جب ایک فریق اس کی بنیادوں کو نقصان پہنچا رہا ہو تو دوسرے فریق سے صبر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری فوری طور پر عملی اقدامات کرے۔ صرف بیانات اور اپیلیں اس آگ کو نہیں بجھا سکتیں۔ اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ جنگ بندی کی مکمل پاسداری کرے، فضائی حملے اور ڈرون حملے فوری طور پر روکے، بفر زون کی پالیسی واپس لے، انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں دور کرے اور غزہ کے شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ زندہ رہنے کا موقع دے۔ اسی طرح عرب ممالک کو بھی اپنی سفارتی کوششیں تیز کرنی ہوں گی۔ خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو کم کرنے کے لیے انھیں مضبوط، متفق اور مؤثر مؤقف اختیار کرنا ہو گا۔

اگر عالمی طاقتیں اور علاقائی قیادتیں اس وقت بھی خاموش رہیں، تو آنے والے دن مزید خوفناک ہوں گے۔ سیز فائر کا خاتمہ ایک نئی جنگ کو جنم دے سکتا ہے، جس کے نتائج نہ صرف غزہ بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہو گا کہ غزہ صرف ایک جغرافیہ نہیں، بلکہ ایک انسانی سانحہ ہے۔ وہاں کے عوام صرف اعداد نہیں، بلکہ وہ لوگ ہیں جن کے خواب، خواہشات، ارمان، رشتے اور زندگیاں تباہ ہو چکی ہیں۔ ان کے لیے ہر دن قیامت ہے، ہر رات ماتم ہے۔وقت آ گیا ہے کہ عالمی ضمیر جاگے، دنیا امن کے لیے آواز اٹھائے، انصاف کے لیے عملی اقدام کرے اور فلسطینیوں کو اس ظلم سے نجات دلائے۔ ورنہ تاریخ یہی کہے گی کہ اکیسویں صدی میں انسانیت موجود تھی مگر انسان غائب تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جنگ بندی کے نہیں بلکہ سیز فائر ہیں بلکہ دیا ہے کے لیے غزہ کے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم