Express News:
2026-07-24@02:38:14 GMT

کیا تین ٹیمیں فروخت ہوں گی؟

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

کراچی:

’’آپ تو کہہ رہے تھے کہ یہ فکسڈ میچ ہے، ملتان سلطانز کو کچھ نہیں ہو گا، علی ترین ہی اونر رہیں گے، جلد سلمان نصیر اور ان کی ایک دوسرے کو گلدستے دیتے تصویر سامنے آئے گی، پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگیں گے، مگر اب تو ڈیڈ لائن قریب آ گئی لیکن سلطانز کے معاملات طے نہیں ہو سکے، علی ترین قانونی جنگ کے اشارے دے رہے ہیں، اس کا مطلب ہے معاملات حقیقتا ًخراب ہیں‘‘۔

پی ایس ایل پر گہری نظر رکھنے والے ایک دوست سے میں نے جب یہ کہا تو ان کا جواب تھا کہ ’’ میں نے حالات و واقعات کا جائزہ لے کر اپنی رائے دی تھی لیکن شاید میں غلط تھا، خیر جہاں اتنا انتظار کیا 2،4 دن اور کر لو سب سامنے آ جائے گا‘‘

وہ تو یہ کہہ کر خاموش ہو گئے لیکن میرے ذہن میں پاکستان سپر لیگ سے جڑے سوال اب بھی برقرار ہیں، ملتان سلطانز ایک ارب 8 کروڑ روپے سالانہ کے ساتھ لیگ کی سب سے مہنگی ٹیم بنی۔

میدان میں اس سال کارکردگی ناقص رہی لیکن میدان سے باہر اونر علی ترین خوب لفظی چوکے چھکے لگاتے رہے، کھلاڑیوں کو شائقین سے داد ملتی ہے انھیں بھی ملی لیکن ساتھ حکام کی ناراضی بھی سہنا پڑی۔ 

وجوہات کیا ہیں ان پر پہلے بھی تفصیل سے لکھ چکا لیکن اب معاملے کے اختتام کا وقت قریب آ گیا ہے جو کہ خوشگوار نہیں لگتا، ایک دن بعد ڈیڈ لائن ختم ہو جائے گی جس سے علم ہو گا کہ کس نے فرنچائز برقرار رکھی اور کون ری بڈنگ میں جائے گا۔ 

پشاور زلمی نے سب سے پہلے ہاں کی،لاہور قلندرز نے بھی زبانی طور پر آمادگی ظاہر کر دی تھی، کراچی کنگز کے لیگ میں بھاری اسٹیکس ہیں اس کے اونرز ٹیم کو چھوڑنا برداشت نہیں کر سکتے۔

اسلام آباد یونائٹیڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کیلیے پی ایس ایل سونے کا انڈا دینے والی مرغی ثابت ہوئی ہے، وہ بھی کہیں نہیں جا رہے، یوں بیشتر فرنچائز برقرار رہیں گی۔ 

مسئلہ ملتان سلطانز کا ہے پی سی بی نے اسے ٹیم برقرار رکھنے کے حوالے سے پیشکش ہی نہیں کی تھی، علی ترین نے حال ہی میں کہا کہ ان کے پیغامات کا بھی جواب نہیں دیا جا رہا،بورڈ کی ہر پریس ریلیز میں لفظ ’’ اہل فرنچائز‘‘استعمال ہوتا رہا۔

اس کا مطلب یہی سمجھیں کہ سلطانز کو الوداع کہنے کا وقت آ گیا ہے، اب منگل تک سب واضح ہو جائے گا، شاید علی کو بھی اب صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہو رہا ہے، وہ سمجھے کہ سوشل میڈیا پر تند و تیز باتیں کر کے بچ نکلیں گے لیکن یہاں مس کیلکولیشن ہو گئی۔ 

شاید رمیز راجہ، ذکا اشرف یا نجم سیٹھی چیئرمین ہوتے تو ابو سے فون کروا کر بچ جاتے مگر محسن نقوی کا معاملہ الگ ہے،وہ ایسی چیزوں کو برداشت نہیں کرتے، سلطانز کے اونر نے اپنی دانست میں عقلمندی کی کہ صرف سلمان نصیر کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے،البتہ ان کے بیانات سے لیگ کو ہی نقصان ہوا اور کسی بھی ادارے کا سربراہ یہ برداشت نہیں کر سکتا۔ 

اب شاید معافی کی گنجائش نہیں رہی ،اسی لیے قانونی چارہ جوئی کے اشارے دیے جا رہے ہیں، اس حوالے سے دیگر فرنچائزز کو بھی ساتھ ملانے کیلیے کوششیں ہوئیں لیکن چلتی بس پر سوار ہونے کی غلطی شاید ہی کوئی کرے گا۔ 

ویسے تو امکان کم ہے لیکن اگر اب آخری لمحات میں سلطانز کی معافی تلافی ہو گئی تب بھی فیس تو ایک ارب 8 کروڑ سے بڑھ کر ایک ارب35 کروڑ تک ہو جائے گی۔ 

جب یہ تسلیم کر لینا تھا تو لڑائی کیوں کی؟ البتہ اگر مسئلہ برقرار رہا تو نہ صرف علی ترین سے اونر شپ چھن جائے گی بلکہ وہ ری بڈنگ میں بھی حصہ نہیں لے سکیں گے، اگر کسی چچا، ماموں یا کسی اور کو سامنے لایا گیا تو فائدہ کیا ہوگا۔ 

یعنی معاملہ ’’ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے والا ‘‘ ہو گا، اب دیکھتے ہیں ڈراپ سین کیا ہونے والا ہے، کیا صرف 2 نئی ٹیمیں ہی آئیں گی یا تین ٹیمیں فروخت ہوں گی؟

ویسے ملتان سلطانز نے جاتے جاتے دیگر فرنچائز کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے، آڈٹ فرم کو جو اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کی گئیں اس میں منافع ظاہر ہوا، دیگر کئی نے خسارے کا ذکر کیا۔ 

یہاں سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اگر سوا ارب روپے سالانہ فیس دینے والی فرنچائز فائدے میں ہے تو دیگر کو نقصان کیسے ہو سکتا ہے؟ اب سب کی فیس خاصی بڑھ چکی ہیں، مجھے اس کا علم ہے لیکن چونکہ نئی فرنچائز ابھی فروخت نہیں ہوئیں لہذا ذکر کرنا مناسب نہیں۔ 

میں جانتا ہوں کہ کئی مالکان معاملات سے خوش نہیں،آپس میں کئی میٹنگز بھی ہو چکیں، فیس میں اضافہ کس فارمولے کے تحت ہوا؟ نئی فرنچائز کا فنانشل ماڈل کیا ہو گیا؟ایسے کئی دیگر سوالات ان کے ذہنوں میں مچل رہے ہیں۔

آڈٹ فرم سے ملاقات اتنی کارآمد نہیں رہی لیکن کوئی بھی ابھی محاذ آرائی نہیں چاہتا، پہلی ترجیح ملکیت برقرار رکھنے کی ہے، کوئی ایک لاکھ روپے کماتا ہے جو گھر میں مقیم 6 افراد میں یکساں تقسیم ہو جاتے ہیں لیکن اگر 2 لوگ اور بڑھ جائیں جبکہ آمدنی برقرار رہے تو پرانے والے تو نقصان میں آ جائیں گے۔

فنانشل ماڈل پر نظرثانی کے ساتھ ذرائع آمدنی میں بڑا اضافہ ضروری ہے، یہ فرنچائز اونرز اس وقت سامنے آئے جب پی ایس ایل کو کوئی گلے لگانے کو تیار نہ تھا، علی ترین نے تو بعد میں جوائن کیا تھا۔ 

دیگر کسی اونر نے کبھی لیگ کیخلاف بات کر کے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش بھی نہیں کی، اب پی سی بی کا فرض ہے کہ انھیں اہم اسٹیک ہولڈر سمجھتے ہوئے ساتھ رکھیں ،ان سے مشاورت کریں، جاوید آفریدی، عاطف رانا، ثمین رانا، ندیم عمر، علی نقوی ، سلمان اقبال یہ سب پی ایس ایل کے مخلص ابتدائی ساتھی ہیں، ان کو عزت ملنی چاہیے۔

ہاں اگر کوئی واجبات کے حوالے سے مسائل پیدا کر رہا ہے تو اس سے قانون کے تحت نمٹیں، نئے اونرز بھی ایسے لائیں جو صرف شوق میں نہ آئیں اور ایک سال بعد ہی اکاؤنٹس دیکھ کر سر پکڑ کر نہ بیٹھ جائیں۔ 

ایسے لوگ ہوں جو لیگ کو نئی بلندیوں پر لے کر جائیں، موجودہ فرنچائزز سے بھی کہیں کہ وہ لیگ کو آگے بڑھانے کیلیے نئی راہیں تلاش کریں، اس سے ہی پی ایس ایل کو بڑا بنایا جا سکے گا ورنہ 10 سال بعد پھر ہم وہیں کھڑے ہوں گے جہاں آج ہیں۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ملتان سلطانز پی ایس ایل علی ترین

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف