Express News:
2026-06-03@07:15:12 GMT

کیا تین ٹیمیں فروخت ہوں گی؟

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

کراچی:

’’آپ تو کہہ رہے تھے کہ یہ فکسڈ میچ ہے، ملتان سلطانز کو کچھ نہیں ہو گا، علی ترین ہی اونر رہیں گے، جلد سلمان نصیر اور ان کی ایک دوسرے کو گلدستے دیتے تصویر سامنے آئے گی، پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگیں گے، مگر اب تو ڈیڈ لائن قریب آ گئی لیکن سلطانز کے معاملات طے نہیں ہو سکے، علی ترین قانونی جنگ کے اشارے دے رہے ہیں، اس کا مطلب ہے معاملات حقیقتا ًخراب ہیں‘‘۔

پی ایس ایل پر گہری نظر رکھنے والے ایک دوست سے میں نے جب یہ کہا تو ان کا جواب تھا کہ ’’ میں نے حالات و واقعات کا جائزہ لے کر اپنی رائے دی تھی لیکن شاید میں غلط تھا، خیر جہاں اتنا انتظار کیا 2،4 دن اور کر لو سب سامنے آ جائے گا‘‘

وہ تو یہ کہہ کر خاموش ہو گئے لیکن میرے ذہن میں پاکستان سپر لیگ سے جڑے سوال اب بھی برقرار ہیں، ملتان سلطانز ایک ارب 8 کروڑ روپے سالانہ کے ساتھ لیگ کی سب سے مہنگی ٹیم بنی۔

میدان میں اس سال کارکردگی ناقص رہی لیکن میدان سے باہر اونر علی ترین خوب لفظی چوکے چھکے لگاتے رہے، کھلاڑیوں کو شائقین سے داد ملتی ہے انھیں بھی ملی لیکن ساتھ حکام کی ناراضی بھی سہنا پڑی۔ 

وجوہات کیا ہیں ان پر پہلے بھی تفصیل سے لکھ چکا لیکن اب معاملے کے اختتام کا وقت قریب آ گیا ہے جو کہ خوشگوار نہیں لگتا، ایک دن بعد ڈیڈ لائن ختم ہو جائے گی جس سے علم ہو گا کہ کس نے فرنچائز برقرار رکھی اور کون ری بڈنگ میں جائے گا۔ 

پشاور زلمی نے سب سے پہلے ہاں کی،لاہور قلندرز نے بھی زبانی طور پر آمادگی ظاہر کر دی تھی، کراچی کنگز کے لیگ میں بھاری اسٹیکس ہیں اس کے اونرز ٹیم کو چھوڑنا برداشت نہیں کر سکتے۔

اسلام آباد یونائٹیڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کیلیے پی ایس ایل سونے کا انڈا دینے والی مرغی ثابت ہوئی ہے، وہ بھی کہیں نہیں جا رہے، یوں بیشتر فرنچائز برقرار رہیں گی۔ 

مسئلہ ملتان سلطانز کا ہے پی سی بی نے اسے ٹیم برقرار رکھنے کے حوالے سے پیشکش ہی نہیں کی تھی، علی ترین نے حال ہی میں کہا کہ ان کے پیغامات کا بھی جواب نہیں دیا جا رہا،بورڈ کی ہر پریس ریلیز میں لفظ ’’ اہل فرنچائز‘‘استعمال ہوتا رہا۔

اس کا مطلب یہی سمجھیں کہ سلطانز کو الوداع کہنے کا وقت آ گیا ہے، اب منگل تک سب واضح ہو جائے گا، شاید علی کو بھی اب صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہو رہا ہے، وہ سمجھے کہ سوشل میڈیا پر تند و تیز باتیں کر کے بچ نکلیں گے لیکن یہاں مس کیلکولیشن ہو گئی۔ 

شاید رمیز راجہ، ذکا اشرف یا نجم سیٹھی چیئرمین ہوتے تو ابو سے فون کروا کر بچ جاتے مگر محسن نقوی کا معاملہ الگ ہے،وہ ایسی چیزوں کو برداشت نہیں کرتے، سلطانز کے اونر نے اپنی دانست میں عقلمندی کی کہ صرف سلمان نصیر کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے،البتہ ان کے بیانات سے لیگ کو ہی نقصان ہوا اور کسی بھی ادارے کا سربراہ یہ برداشت نہیں کر سکتا۔ 

اب شاید معافی کی گنجائش نہیں رہی ،اسی لیے قانونی چارہ جوئی کے اشارے دیے جا رہے ہیں، اس حوالے سے دیگر فرنچائزز کو بھی ساتھ ملانے کیلیے کوششیں ہوئیں لیکن چلتی بس پر سوار ہونے کی غلطی شاید ہی کوئی کرے گا۔ 

ویسے تو امکان کم ہے لیکن اگر اب آخری لمحات میں سلطانز کی معافی تلافی ہو گئی تب بھی فیس تو ایک ارب 8 کروڑ سے بڑھ کر ایک ارب35 کروڑ تک ہو جائے گی۔ 

جب یہ تسلیم کر لینا تھا تو لڑائی کیوں کی؟ البتہ اگر مسئلہ برقرار رہا تو نہ صرف علی ترین سے اونر شپ چھن جائے گی بلکہ وہ ری بڈنگ میں بھی حصہ نہیں لے سکیں گے، اگر کسی چچا، ماموں یا کسی اور کو سامنے لایا گیا تو فائدہ کیا ہوگا۔ 

یعنی معاملہ ’’ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے والا ‘‘ ہو گا، اب دیکھتے ہیں ڈراپ سین کیا ہونے والا ہے، کیا صرف 2 نئی ٹیمیں ہی آئیں گی یا تین ٹیمیں فروخت ہوں گی؟

ویسے ملتان سلطانز نے جاتے جاتے دیگر فرنچائز کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے، آڈٹ فرم کو جو اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کی گئیں اس میں منافع ظاہر ہوا، دیگر کئی نے خسارے کا ذکر کیا۔ 

یہاں سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اگر سوا ارب روپے سالانہ فیس دینے والی فرنچائز فائدے میں ہے تو دیگر کو نقصان کیسے ہو سکتا ہے؟ اب سب کی فیس خاصی بڑھ چکی ہیں، مجھے اس کا علم ہے لیکن چونکہ نئی فرنچائز ابھی فروخت نہیں ہوئیں لہذا ذکر کرنا مناسب نہیں۔ 

میں جانتا ہوں کہ کئی مالکان معاملات سے خوش نہیں،آپس میں کئی میٹنگز بھی ہو چکیں، فیس میں اضافہ کس فارمولے کے تحت ہوا؟ نئی فرنچائز کا فنانشل ماڈل کیا ہو گیا؟ایسے کئی دیگر سوالات ان کے ذہنوں میں مچل رہے ہیں۔

آڈٹ فرم سے ملاقات اتنی کارآمد نہیں رہی لیکن کوئی بھی ابھی محاذ آرائی نہیں چاہتا، پہلی ترجیح ملکیت برقرار رکھنے کی ہے، کوئی ایک لاکھ روپے کماتا ہے جو گھر میں مقیم 6 افراد میں یکساں تقسیم ہو جاتے ہیں لیکن اگر 2 لوگ اور بڑھ جائیں جبکہ آمدنی برقرار رہے تو پرانے والے تو نقصان میں آ جائیں گے۔

فنانشل ماڈل پر نظرثانی کے ساتھ ذرائع آمدنی میں بڑا اضافہ ضروری ہے، یہ فرنچائز اونرز اس وقت سامنے آئے جب پی ایس ایل کو کوئی گلے لگانے کو تیار نہ تھا، علی ترین نے تو بعد میں جوائن کیا تھا۔ 

دیگر کسی اونر نے کبھی لیگ کیخلاف بات کر کے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش بھی نہیں کی، اب پی سی بی کا فرض ہے کہ انھیں اہم اسٹیک ہولڈر سمجھتے ہوئے ساتھ رکھیں ،ان سے مشاورت کریں، جاوید آفریدی، عاطف رانا، ثمین رانا، ندیم عمر، علی نقوی ، سلمان اقبال یہ سب پی ایس ایل کے مخلص ابتدائی ساتھی ہیں، ان کو عزت ملنی چاہیے۔

ہاں اگر کوئی واجبات کے حوالے سے مسائل پیدا کر رہا ہے تو اس سے قانون کے تحت نمٹیں، نئے اونرز بھی ایسے لائیں جو صرف شوق میں نہ آئیں اور ایک سال بعد ہی اکاؤنٹس دیکھ کر سر پکڑ کر نہ بیٹھ جائیں۔ 

ایسے لوگ ہوں جو لیگ کو نئی بلندیوں پر لے کر جائیں، موجودہ فرنچائزز سے بھی کہیں کہ وہ لیگ کو آگے بڑھانے کیلیے نئی راہیں تلاش کریں، اس سے ہی پی ایس ایل کو بڑا بنایا جا سکے گا ورنہ 10 سال بعد پھر ہم وہیں کھڑے ہوں گے جہاں آج ہیں۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ملتان سلطانز پی ایس ایل علی ترین

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا