پاکستانی اداکار عثمان مختار نے اپنے بچپن کی تلخ یادوں سے پردہ اٹھا دیا۔

ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اداکار عثمان مختار نے کہا کہ ’میرے ساتھ والد کا جو رویہ تھا کہ اس طرح کا سلوک اپنی بیٹی کے ساتھ نہیں کروں گا‘۔

انہوں نے کہا کہ میرے والد کا سلوک بہت زیادہ خراب تھا اور میرے خیال میں وہ ٹھیک نہیں تھا مگر شاہد وہ اپنے طور پر اسے درست سمجھتے ہوں۔

عثمان مختار نے کہا کہ ’جب میں اُس سلوک کو برا سمجھتا ہوں تو اپنی بیٹی کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار نہیں کروں گا‘۔

’میرے ساتھ اُن کا جو رویہ اور برتاؤ تھا  اُس کے بعد تو میں کبھی بھی باپ نہیں بننا چاہتا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ اُس چیز نے مجھے بیٹی کے ساتھ نہ صرف رویہ بہتر کروایا بلکہ میں آج بھی بہت ساری چیزیں ٹھیک کرنا چاہتا ہوں اور اُس طرح کا باپ بننا نہیں چاہتا جیسے میرے والد تھے۔

ایک سوال کے جواب میں اداکار نے بتایا کہ جب میں فورتھ گریڈ میں تھا تو ایک روز والدہ نے مجھے تفریح کا کہا اور پھر ہم گاڑی میں بیٹھ گئے، جس میں میرے کپڑے، بستر اور بکس وغیرہ بھی تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم ایک جگہ پر پہنچے تو مجھے کمرے میں لے جاکر دکھایا گیا کہ یہ میرا بستر ہوگا اور میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو والدہ جاچکی تھیں اور پھر میں نے بورڈنگ اسکول میں پانچ سال گزارے۔

عثمان مختار نے کہا کہ میں بورڈنگ اسکول میں چھوڑ کے جانے پر والدہ کو کبھی بھی غلط نہیں کہتا کیونکہ اُس وقت وہ بہت زیادہ جہدوجہد اور سخت زندگی گزار رہی تھیں۔

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل عثمان مختار نے نے کہا کہ

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • جوز بٹلر نے ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا