یہ خبر حیران کن تھی لیکن مصدقہ تھی۔ سولجر بازار کراچی میں واقع جفلرسٹ گرلز سیکنڈری اسکول کی عمارت کو مخدوش قرار دے کر اس پر تالے ڈال دیے گئے۔ یہ تالے محکمہ تعلیم کی اجازت سے یا ان کو مطلع کیے بنا ہی پڑ گئے حیران کن بات یہ بھی ہے کہ جب ہفتے کی صبح اساتذہ اور طالبات اسکول پہنچیں تو اسکول میں تالے لگے ہوئے تھے، لہٰذا اسکول کے باہر ہی اسمبلی لگائی گئی اور سب اپنے گھروں کو چلے گئے۔
سولجر بازار کے اس علاقے میں واقع مکینوں کا کہنا تھا کہ جمعہ کی رات آٹھ بجے اسکول سیل کر دیا گیا تھا۔ اس خبر کے مطابق اسکول مخدوش تھا جب کہ اسکول کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انھیں اس سلسلے میں کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا تھا جب کہ عمارت بھی اتنی مخدوش نہ تھی کہ سیل کیا جاتا۔
اس کے بارے میں مشہور ہے کہ اسکول کی عمارت پر کئی برسوں سے قبضے کی کوششیں کی جا رہی تھیں، ایک خبر یہ بھی سرگرم ہے کہ کے بی سی اے ایس اس عمل میں حصہ لیتے ہوئے بچوں کو کہیں اور منتقل کرانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے اور اسکول کی کروڑوں کی زمین لینڈ مافیا کے بڑے سے پیٹ کے حوالے۔
یہ اسکول 1931 میں قائم کیا گیا تھا، ایک پرانی خبر کے مطابق اس اسکول کو تاریخی ورثہ قرار دیا گیا تھا لیکن 2017 کے اپریل کے مہینے میں نو سے دس تاریخ کی درمیانی شب کو قبضہ مافیا نے اس کے دو کمرے گرا دیے تھے اس خبر کو میڈیا نے نشرکیا اور وزیر اعلیٰ سندھ نے اس واقعے کا نوٹس لیا اور اس وقت کے ایس ایچ او سولجر بازار کو اسی سلسلے میں معطل بھی کر دیا گیا تھا، یہ کوئی عام خبر نہیں تھی بلکہ بہت بڑا سوالیہ نشان تھا کہ ہمارے شہر کراچی میں آخر ہو کیا رہا ہے؟
سولجر بازار سے ملحقہ علاقوں میں بھی عجیب و غریب سرگرمیاں نظر آتی ہیں جو خاص کر ان قدیم عمارات سے متعلق ہیں جن کا والی وارث کوئی نہیں یا جنھیں اس زمانے کے امیر حضرات بند کر کے بیرون ملک جا چکے ہیں۔
اب انھیں کیا خبر کہ شہر کی مصروف سڑک کے کنارے جس گھر کو وہ تالا لگا کر اپنے تئیں بند کر کے چلے گئے ہیں کہ یہ گھر تو ان کا ہی ہے اس کے کاغذات میں بھی ان کا نام ہی درج ہے کہ اپنا ملک اور اپنی زمین، پر وہ بھول بیٹھے کہ اب بہت کچھ بدل چکا ہے۔
ان کے گھر کے تالے ٹوٹ چکے ہیں جہاں کبھی پرانی کار کھڑی ہوتی تھی وہاں اب پرانی بدصورت بس کھڑی ہے، کون جانے کہ سڑک سے گزرتے کس کو پڑی ہے کہ وہ معلومات حاصل کرے کہ جناب آپ کون ہیں؟ جو اس گھر میں اچانک سے ٹپک پڑے ہیں یا دھیرے دھیرے آکاس بیل کی مانند جکڑ رہے ہیں۔
یہ زمین شہر کے بیچوں بیچ انتہائی اہمیت کی حامل ہے جہاں کروڑوں کا ایک اپارٹمنٹ دستیاب ہے، پر لالچ اور مافیا۔۔۔۔ جو کسی بھی صورت میں کسی بھی معاشرے کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔
ہمارے یہاں قبضہ گروپ نے پورے ملک میں اپنے شکنجے کس کر رکھے ہیں چاہے لاہور ہو یا کراچی، سکھر ہو یا شیخوپورہ ان کے قصے ہم اخبارات اور سوشل میڈیا پر سنتے رہتے ہیں۔
اسکول ہوں یا قبرستان کوئی جگہ ان کے قبضے سے محفوظ نہیں۔ لیکن یہ کس طرح اپنے ملک اور معاشرے میں منفی تاثرات ابھار رہے ہیں۔ لوگوں میں بدامنی اور بے اعتمادی کی فضا نے اداروں پر سے اپنا اعتماد اٹھا دیا۔
ہمارے یہاں قبضہ مافیا نے مختلف قسم کے روپ اختیار کر رکھے ہیں۔ کوئی غنڈہ مافیا کے ماتحت چلتے ہیں تو کچھ غریب بن کر جھونپڑیاں ڈال لیتے ہیں۔ بظاہر کچی آبادی لیکن اصل حقیقت کچھ اور ہی ہوتی ہے۔
یہ صورت حال اسکیم 33 جو کراچی کی ایک بڑی رہائشی اسکیم ہے جہاں مختلف اداروں اور کمیونٹیز کی ہاؤسنگ اسکیمز ہیں لیکن کئی ادارے جن میں خاص کر پوسٹ آفس سوسائٹی قابل ذکر ہے قبضہ مافیا کی جکڑ میں ہے۔ اس کی قیمتی زمین جن میں سیکٹر 25A اور 26A شامل ہے ناجائز تجاوزات کی نظر ہے۔
2005 میں آنے والے سیلاب سے اندرون سندھ کے جو علاقے متاثر ہوئے تب کراچی کی جانب رخ کرنے والے لوگوں نے اس خالی جگہ پر اپنا ڈیرہ ڈالا وہیں ان کی آڑ میں بااثر لوگوں نے پراسرار انداز میں ناجائز تجاوزات کا جال بچھانا شروع کر دیا۔
آج ان سیکٹرز میں اگر کچی آبادی نظر آتی ہے تو وہیں دیگر سوسائٹیوں کے نام نظر آتے ہیں جو قطعاً ناجائز ہیں۔ اس طرح بے وقوف اور لٹنے والی عوام ہی نشانہ بنتی ہے ایک وہ جن کی زمین پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہے دوسرے وہ جو بڑے جعلی سوسائٹیوں کے نام میں اپنے سرمائے کو پار لگاتے ہیں۔ گویا ایک زمین کو دو بار بیچا جاتا ہے لیکن کون ہے جو اس طرح کے ناجائز قبضے سے ہمارے ملک کی قیمتی زمینوں کو واگزار کرائے۔
ہم مسلمان ہیں اور سینہ تان کر اپنے حقوق کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ناجائز کسی دوسرے کے حقوق کو ضبط کرنے کے سلسلے میں بھول جاتے ہیں کہ ہم دنیا اور آخرت میں اپنے لیے کیا خرید رہے ہیں، وقتی طور پر مادی خوشی حاصل کرنے کے چکر میں ایک عمرکا عذاب خرید لیتے ہیں۔
یہ گناہ کبیرہ ہے لیکن ہم اسے اپنے طاقت اور تکبر کے زعم میں نظرانداز کر دیتے ہیں۔
کراچی اس قبضہ مافیا کے حوالے سے خاصا بدنام ہے جہاں قبرستان اور پہاڑ بھی محفوظ نہیں ہیں بلکہ نالوں پر بھی ان مافیا کے قبضے تھے۔
لیکن حالیہ چند سالوں میں اس سلسلے میں خاص کارروائیاں دیکھنے میں آئی تھیں جو شہر کراچی کے پوش علاقوں کے نالوں سے بنگلے، ریسٹورنٹ، شورومز سے سب خالی کرکے ان کی اصل صورت میں واپس لوٹایا گیا جو شہر کے انفرا اسٹرکچر کی بڑی کمزوری کو ظاہرکرتا ہے یہاں تک کہ اب بھی بہت سے علاقے توجہ طلب ہیں جہاں اس قسم کی کارگزاریوں سے علاقے کی نہ صرف ہیئت بلکہ امن و عامہ کے حوالے سے ایشوز پیدا ہوئے ہیں۔
کراچی کے بہت سے پارکس اورگلیاں بھی ان قبضہ مافیا کے پیٹ کی خوراک بن چکے ہیں۔ ایک سے دو بنانے کے چکر کو ایک سے گیارہ بنانے کے عمل نے نہایت تکلیف دہ حد تک سفاک کر دیا ہے۔
حکومت کے اداروں کی جانب سے جعلی سوسائٹیوں کے بارے میں خبریں چلتی رہتی ہیں لیکن کم سے کم پیسوں میں اپنا گھر کا جو خواب دکھایا جاتا ہے ایسے بڑے بڑے پراجیکٹس تیس پچیس سالوں سے زائد گزر جانے کے باوجود ادھورے پڑے ہیں جس میں غریب عوام کا لاکھوں کروڑوں روپیہ سرد پڑا ہے لیکن لوٹنے والے اس پیسے سے اپنی زمینوں اور پراجیکٹس کے بچے کے بچے بھی پیدا کر چکے ہیں۔
ایسی بڑی بڑی تعمیراتی کمپنیاں جو سرکار کی جانب سے بین کی زد میں ہیں 2022 سے لگے اس بین کی حالیہ صورت حال کیا ہے۔ اس سے پہلے بھی نیب نے ایسے جعل ساز سوسائٹی مافیا کے خلاف بھی عوام الناس سے درخواستیں وصول کی تھیں لیکن تاحال ان درخواستوں پر کارروائی منتظر ہے۔
امید تو ہے کہ کراچی میں ایسے جعل ساز بلڈرز اور سوسائٹی کے علاوہ قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی تو ہوگی۔ غریبوں کی آڑ میں بڑا کھیل کھیلنے والوں کے لیے بھی یقینا کچھ نہ کچھ ضرور حکمت عملی اختیار کی جائے گی، اس کے لیے ماڈرن اور تکنیکی امور اور آلات کے ذریعے زمین پر حق دار کے حق کو جانچنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
زمین اپنا حق نہیں چھوڑتی وہ چلا چلا کر کہتی ہے کہ وہ صرف اپنے اندر دفن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لہٰذا اس سے زیادہ امیدیں وابستہ نہ کی جائیں کہ یہ صرف چند دنوں کی خوشی اور سکون فراہم کرنے کے لیے ہیں اور اس کے بعد دہکتی آگ۔
لہٰذا قبرستانوں، اسکولوں، خالی قدیم گھروں، پہاڑوں اور غریبوں کے حق حلال کی کمائی سے خریدی گئی زمینوں پر ناجائز قبضے سے گریز کریں کہ پھر سنبھلنے کا موقعہ نہیں ملے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سولجر بازار قبضہ مافیا سلسلے میں مافیا کے اسکول کی چکے ہیں گیا تھا کر دیا کے لیے
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی