لیہ، مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
ایم ڈبلیو ایم کے رہنمائوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت مارشل لاء کی صورتحال ہے، سیاسی مخالفین کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، ایک منتخب وزیراعظم کو اپنی فیملی، وکلائ، پارٹی کے رہنمائوں حتی کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ سے نہیں ملنے دیا جارہا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین ضلع لیہ کے زیراہتمام 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا۔ نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد ابو طالب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کی قیادت ایم ڈبلیو ایم جنوبی پنجاب کے صوبائی رہنما صفدر حسین خان، مولانا محمد حسنین خان، ضلعی رہنما ساجد حسین گشکوری، سیدسعادت عمار کاظمی ایڈووکیٹ، روف خان گرمانی نے کی۔ مظاہرین نے امریکہ و اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی، مظاہرین نے آمریت اور 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف بھی نعرے بازی کی، اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے رہنمائوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت مارشل لاء کی صورتحال ہے، سیاسی مخالفین کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، ایک منتخب وزیراعظم کو اپنی فیملی، وکلائ، پارٹی کے رہنمائوں حتی کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ سے نہیں ملنے دیا جارہا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔