جعفر آباد، 27ویں آئینی ترمیم کیخلاف مجلس علماء کا احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مجلس علماء مکتب اہلبیت کے رہنماء نے کہا کہ قوم کو متحد ہو کر اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلیے آواز بلند کرنا ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری کی کال پر بلوچستان کے ضلع جعفر آباد میں نماز جمعہ کے بعد 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف یوم سیاہ مناتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مجلس علماء مکتب اہلبیت کی جانب سے گوٹھ غلام محمد، ضلع جعفر آباد میں بعد نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کی قیادت مجلس علماء مکتب اہلبیت بلوچستان کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد علی جمالی نے کی۔ انہوں نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ستائیسویں ترمیم عوامی امنگوں کے خلاف ہے۔ آئین میں ایسی تبدیلیاں ریاست اور عوام دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ قوم کو متحد ہو کر اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی۔ آخر میں کارکنان نے مجلس وحدت مسلمین کے قائد علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے ساتھ تجدید عہد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ظلم، ناانصافی اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا دینی اور قومی فریضہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مجلس علماء
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔