Jasarat News:
2026-07-24@02:31:52 GMT

دہلی دھماکا،بھارتی پولیس نےکشمیریوں کاجیناحرام کردیا

اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

آگرہ، : دہلی کار دھماکوں کے بعدبھارتی پولیس نے ملک بھر میں کشمیری مسلمانوں کا جینا حرام کردیا ہے۔

تازہ واقعے میں آگرہ کے منٹولا میں رہنے والے کشمیری نوجوانوں سے پوچھ گچھ کی ہے، انہیں تصدیق کے لیے تھانے بھی بلایا گیا۔

 پولیس کی کارروائی سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، کیونکہ لوگوں کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ معاملہ کیا ہے؟ لوگوں کو اس معاملے کے بارے میں یقین نہیں تھا۔

 آگرہ کے اداروں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ بھی سکیورٹی ایجنسیوں کے ریڈار پر ہیں۔ڈی سی پی سٹی سید علی عباس نے بتایا کہ ایل آئی یو کے ان پٹ کی بنیاد پر پورے شہر میں تصدیق کی جا رہی ہے۔

ایل آئی یو کو اطلاع ملی تھی کہ منٹولا میں کشمیری نوجوان رہتے ہیں لیکن مقامی پولیس اس سے لاعلم تھی۔ اس لیے تمام کشمیری نوجوانوں کو جمعرات کو تھانے بلایا گیا۔ ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔

اس بات کا تعین کیا گیا کہ آیا ان کے خلاف کوئی کیس زیر التوا یا نہیں ہے۔ ان کے سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر کشمیر سے بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یہ بھی انکشاف ہوا کہ تمام نوجوان برسوں سے یہاں سردیوں میں گرم کپڑے بیچنے آتے رہے ہیں، سردیوں سے پہلے انہوں نے آگرہ میں مکان کرائے پر لے لیا۔

 پولیس کی کارروائی سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کشمیریوں کے بارے میں بات چیت کی جارہی ہے۔

ڈی سی پی سٹی سید علی عباس نے بتایا کہ کشمیری نوجوانوں کی ابتدائی تفتیش میں کوئی مشتبہ شخص سامنے نہیں آیا۔ شہر کے دیگر علاقوں میں رہنے والے کشمیری نوجوانوں کی بھی اسی طرح تصدیق کی جا رہی ہے۔

دہلی کار بم دھماکے کے سلسلے میں لکھنو ¿ میں گرفتار کیے گئے ڈاکٹر پرویز کا آگرہ سے تعلق تھا۔ ڈاکٹر پرویز نے آگرہ کے ایس این میڈیکل کالج سے ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ سکیورٹی ایجنسیاں اور یوپی اے ٹی ایس کی ٹیمیں اس بات کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ ڈاکٹر پرویز اپنی پڑھائی کے دوران کس کس سے رابطے میں تھے۔

 اس کے قریبی ساتھی کون ہیں؟ کون کون اس سے ملنے آیا کرتا تھا۔ڈاکٹر پرویز کی بہن ڈاکٹر شاہین بھی آگرہ آئی تھیں۔ نتیجتاً ایجنسیاں ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر شاہین کے رابطوں کی چھان بین کر رہی ہیں۔

 ایس ٹی ایف اور اے ٹی ایس کی ٹیموں نے ایس این میڈیکل کالج کا دورہ کیا اور پوچھ گچھ کی۔ ٹیم نے ہاسٹل اور شعبہ طب کی بھی تلاشی لی۔ 2009 سے 2016 تک کے جونیئر ڈاکٹروں کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔

ویب ڈیسک Faiz alam babar

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کشمیری نوجوانوں ڈاکٹر پرویز

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک