پنجاب میں مزدوروں کی سوشل سیکیورٹی شراکت داری کو قانونی تحفظ دینے کی تیاریاں تیز
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
علی رامے: پنجاب میں مزدوروں کی سوشل سیکیورٹی شراکت داری کو قانونی تحفظ دینے کے لیے محکمہ لیبر نے ’’ویج سیلنگ‘‘ کا معاملہ ایک مرتبہ پھر پنجاب حکومت کے سامنے رکھ دیا ہے۔ اس سلسلے میں نئی قانون سازی کی تیاریوں کو تیز کر دیا گیا ہے تاکہ مزدوروں کو درپیش مسائل کو دور کیا جا سکے۔
محکمہ لیبر کے مطابق 2022 میں بڑھائی گئی کم از کم اجرت اور سوشل سیکیورٹی کے لیے مقرر پرانی تنخواہ کی حد کے درمیان موجود تضاد کو ختم کیا جائے گا۔ لاہور ہائیکورٹ پہلے ہی حکومت کو 30 روز کے اندر اس حوالے سے قانون سازی کا حکم دے چکا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف سے گورنر خیبرپختونخواہ کی ملاقات
حکام کے مطابق ویج سیلنگ میں مجوزہ ترمیم نہ صرف مزدوروں کی سوشل سیکیورٹی مراعات کو بہتر کرے گی بلکہ آجرین اور اداروں کی شراکت داری کی شرح بھی واضح ہو جائے گی۔ اس سے نظام زیادہ شفاف اور قابلِ عمل ہو جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر معاملہ جلد حل نہ ہوا تو قانونی پیچیدگیاں مزید بڑھ سکتی ہیں، جبکہ حکومت کو کم از کم اجرت اور تنخواہ کی حد کو ہم آہنگ کرنے کا فوری فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ مزدوروں اور اداروں دونوں کے لیے قانونی عمل آسان بنایا جا سکے۔
لاہور میں 256ٹریفک حادثات؛ ایک شخص جاں بحق 285 زخمی
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔