اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر نے کہا ہے کہ غیر سائنسی بلاسٹنگ اور ڈرلنگ سے 40 فیصد تک قیمتی پتھر ضائع ہو رہے ہیں جبکہ دستاویزی ریکارڈ نہ ہونے کے باعث پاکستان میں جیمز کی برآمدی صلاحیت دو ارب ڈالر کے مقابلے میں محض 70 لاکھ ڈالر رہ جاتی ہے ۔

وزیراعظم کی کمیٹی برائے جمز اسٹون پالیسی کا اجلاس معاون خصوصی ہارون اختر کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور وزیراعظم کے مشیر رانا احسان افضل نے بھی شرکت کی ۔ اعلامیے کے مطابق ہارون اختر کا کہنا تھا کہ جمز اسٹون کی اصل برآمدات تاحال دستاویزی نہیں،لیکن جلد رجسٹر ہوں گی ۔ پرانے مائننگ طریقوں اور ٹیکنالوجی کے باعث آدھی پیداوار ضائع ہو جاتی ہے ۔ اکثر جمز بغیرویلیو ایڈیشن اور خام حالت میں برآمد ہو جاتے ہیں ۔ بین الاقوامی تعاون اور سرمایہ کاری نہ ہونے سے شعبے کو چیلنجز کا سامنا ہے ۔ جدید مائننگ ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیشن سے جمز کی پیداوار اور برآمدات میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے ۔ ہارون اختر خان نے اسٹیک ہولڈرز کو آئندہ 5 سال میں جمز کی ایکسپورٹس کا واضح تجزیہ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ہارون اختر

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ