وزارتِ داخلہ کی سفارش اور وفاقی حکومت کی منظوری سے 22 تا 24 نومبر 2025 کے دوران پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کو اسٹینڈ بائی، ریسپانس موڈ میں تعینات کیا جائے گا جبکہ رینجرز کو فوری ردعمل یونٹس (Quick Reaction Force) کے طور پر تیسری دفاعی مرحلے میں خدمات فراہم کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ضمنی انتخابات کے دوران سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے پاک فوج، سول فورسز اور مقامی پولیس کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ الیکشن کمیشن سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ای سی پی نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 218(3) اور آرٹیکل 220 کے تحت حاصل اختیارات بروئے کار لاتے ہوئے 23 نومبر 2025 کو منعقد ہونے والے قومی و صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے دوران سیکیورٹی اور نظم و نسق یقینی بنانے کے لیے پاکستان آرمی، سول آرمڈ فورسز اور مقامی پولیس کی کثیر سطح پر تعیناتی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کی سفارش اور وفاقی حکومت کی منظوری سے 22 تا 24 نومبر 2025 کے دوران پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کو اسٹینڈ بائی، ریسپانس موڈ میں تعینات کیا جائے گا جبکہ رینجرز کو فوری ردعمل یونٹس (Quick Reaction Force) کے طور پر تیسری دفاعی مرحلے میں خدمات فراہم کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے بتایا کہ اس تعیناتی کا مقصد انتخابی عمل کو شفاف، منصفانہ اور قانون کے مطابق منعقد کروانا اور ہر قسم کی بدعنوانی اور بدنیتی کے امکانات کا سدباب کرنا ہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ تعینات فورسز کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعات 4 اور 5 کے تحت مکمل اختیارات حاصل ہوں گے تاکہ انتخابی دنوں کے دوران کسی بھی قانون شکن سرگرمی، ہنگامہ آرائی یا رکاوٹ کو بروقت اور مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔ تعیناتی کا اطلاق حلقہ جات PP-115 فیصل آباد، PP-116 فیصل آباد، PP-269 مظفرگڑھ، NA-185 ڈیرہ غازی خان، NA-18 ہری پور، PP-73 سرگودھا، NA-96 فیصل آباد، NA-104 فیصل آباد، NA-143 ساہیوال، PP-98 فیصل آباد، PP-203 ساہیوال، NA-129 لاہور اور PP-87 میانوالی پر ہوگا۔

الیکشن کمیشن نے الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 193 اور آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت نامزد عسکری و سول افسران کو مجسٹریٹ اول درجہ کے اختیارات بھی تفویض کیے ہیں، جس کے تحت وہ 22 تا 24 نومبر کے دوران ضابطہ فوجداری کی دفعہ 190(1) کے مطابق کسی بھی خلاف ورزی، ہنگامی صورت حال یا جرم کے ارتکاب کی صورت میں کارروائی عمل میں لا سکیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن تعیناتی کا فیصل آباد کے دوران کے تحت

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار