دہلی دھماکا:مسلمان ڈاکٹروں کاجیناحرام،لائسنس معطل
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لکھنو:مودی حکومت نے لال قلعہ دھماکے کو مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کا ذریعہ بنالیا ہے،اس سلسلے میں مقبوضہ کشمیر سمیت ملک کے مختلف شہروں میں سینکڑوں مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا،کشمیر میں دکانداروں کو ہراساں کیا گیا،کچھ کشمیریوں کے گھر منہدم کیے گئے۔
خصوصی طور پر مسلم ڈاکٹروں اور پڑھے لکھے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ہندوتوا کی پیروکار مودی سرکار نے مسلمان ڈاکٹروں کا جینا حرام کردیا ہے۔
تازہ واقعے میں بنا کسی ثبوت کے 2 ڈاکٹروں کے لائسنس منسوخ کردیے۔دہلی کے لال قلعہ کے قریب دھماکے کے الزام میں گرفتار ڈاکٹر شاہین سعید اور ڈاکٹر عدیل احمد اب کبھی میڈیکل پراکٹس نہیں کر سکیں گے۔
اتر پردیش اسٹیٹ میڈیکل کونسل نے ان کے میڈیکل رجسٹریشن کو منسوخ کر دیا ہے۔ ریاستی کونسل نے یہ کارروائی نیشنل میڈیکل کونسل کی ہدایات پر کی ہے۔انڈین میڈیکل کونسل (آئی ایم سی) نے کئی ڈاکٹروں کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت کارروائی کی سفارش کی تھی۔
آئی ایم سی نے تمام ریاستی میڈیکل کونسلوں کو ایک خط بھیجا تھا جس میں درخواست کی گئی تھی کہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے والے ڈاکٹروں کے رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے۔
ڈاکٹر شاہین سعید نے 2005 میں رجسٹرڈ کیا تھا اور جموں کے رہنے والے ڈاکٹر عدیل احمد جموں و کشمیر میڈیکل کونسل میں رجسٹرڈ ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے وہاں سے این او سی حاصل کیا اور 2010 میں اتر پردیش اسٹیٹ میڈیکل کونسل میں رجسٹرڈ ہوئے۔ انھوں نے پرائیوٹ پریکٹس کی آڑ میں رجسٹر کرایا تھا۔
اتر پردیش اسٹیٹ میڈیکل کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر امیت گھوش نے بتایا کہ ڈاکٹر عدیل اور ڈاکٹر شاہین کو ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ نتیجتاً ان کے میڈیکل لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
واضح رہے دہلی میں لال قلعہ کے قریب ہوئے دھماکے کی تحقیقات اب این آئی اے کر رہی ہے اور اس معاملے میں ہر روز نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میڈیکل کونسل
پڑھیں:
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔
اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔
موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔