Jasarat News:
2026-07-24@04:04:32 GMT

دہلی دھماکا:مسلمان ڈاکٹروں کاجیناحرام،لائسنس معطل

اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لکھنو:مودی حکومت نے لال قلعہ دھماکے کو مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کا ذریعہ بنالیا ہے،اس سلسلے میں مقبوضہ کشمیر سمیت ملک کے مختلف شہروں میں سینکڑوں مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا،کشمیر میں دکانداروں کو ہراساں کیا گیا،کچھ کشمیریوں کے گھر منہدم کیے گئے۔

خصوصی طور پر مسلم ڈاکٹروں اور پڑھے لکھے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ہندوتوا کی پیروکار مودی سرکار نے مسلمان ڈاکٹروں کا جینا حرام کردیا ہے۔

تازہ واقعے میں بنا کسی ثبوت کے 2 ڈاکٹروں کے لائسنس منسوخ کردیے۔دہلی کے لال قلعہ کے قریب دھماکے کے الزام میں گرفتار ڈاکٹر شاہین سعید اور ڈاکٹر عدیل احمد اب کبھی میڈیکل پراکٹس نہیں کر سکیں گے۔

 اتر پردیش اسٹیٹ میڈیکل کونسل نے ان کے میڈیکل رجسٹریشن کو منسوخ کر دیا ہے۔ ریاستی کونسل نے یہ کارروائی نیشنل میڈیکل کونسل کی ہدایات پر کی ہے۔انڈین میڈیکل کونسل (آئی ایم سی) نے کئی ڈاکٹروں کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت کارروائی کی سفارش کی تھی۔

 آئی ایم سی نے تمام ریاستی میڈیکل کونسلوں کو ایک خط بھیجا تھا جس میں درخواست کی گئی تھی کہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے والے ڈاکٹروں کے رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے۔

ڈاکٹر شاہین سعید نے 2005 میں رجسٹرڈ کیا تھا اور جموں کے رہنے والے ڈاکٹر عدیل احمد جموں و کشمیر میڈیکل کونسل میں رجسٹرڈ ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے وہاں سے این او سی حاصل کیا اور 2010 میں اتر پردیش اسٹیٹ میڈیکل کونسل میں رجسٹرڈ ہوئے۔ انھوں نے پرائیوٹ پریکٹس کی آڑ میں رجسٹر کرایا تھا۔

اتر پردیش اسٹیٹ میڈیکل کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر امیت گھوش نے بتایا کہ ڈاکٹر عدیل اور ڈاکٹر شاہین کو ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ نتیجتاً ان کے میڈیکل لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

واضح رہے دہلی میں لال قلعہ کے قریب ہوئے دھماکے کی تحقیقات اب این آئی اے کر رہی ہے اور اس معاملے میں ہر روز نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔

ویب ڈیسک Faiz alam babar.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میڈیکل کونسل

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک