بنگلا دیش اور پاکستان کا مسلمان ایک قوت ہے‘فضل الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251116-01-14
ڈھاکا(صباح نیوز) امیر جمعیت علماء اسلام (ف) مولانافضل الرحمن نے کہاہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کا مسلمان ایک قوت ہے، ختم نبوت? کانفرنس کااجتماع دونوں ملکوں کے درمیان بہتر، مضبوط اور مستحکم تعلقات میں مزید اضافے کا سبب بنے گا،دونوں برادر اسلامی ممالک مختلف شعبوں میں باہمی تعلقات کے خواہش مند ہیں،اگر آپ(بنگلہ دیش) پیدل ہماری طرف آئیں گے تو ہم دوڑ کر آپ کی طرف آئیں گے۔ محبت کا یہ رشتہ انشااللہ اور مضبوط ہوگا۔ان خیالات کاظہار امیر جمعیت علماء اسلام (ف)مولانافضل الرحمن نے سہرودی گراؤنڈ ڈھاکہ بنگلہ دیش میں ختم نبوت ﷺ کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ امیر جے یوآئی مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ دل سے شکر گزار ہوں کہ آپ نے آج بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں اس تاریخی کانفرنس میں مجھے اور پاکستان کے دیگر علما کرام کو شرکت کی سعادت بخشی۔ یہ امت مسلمہ کا مسئلہ ہے کہ برصغیر کے تمام مسلمان اور تمام مکاتب فکر کے علما کرام اس عقیدے پر متفق ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا اور اگر کوئی بھی نبوت کا دعوی کرتا ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج تصور کیا جائے گا۔ آج یہاں ڈھاکہ(بنگلہ دیش) میں مجھے امت کا وہی اتفاق نظر آ رہا ہے۔ مولانافضل الرحمن نے کہاکہ بنگالی لوگ اور بنگلہ دیش کے لوگ تحریکی مزاج کے ہیں، جس مقصد کی طرف رخ کرتے ہیں، پھر سیلاب کی طرح آگے بڑھتے ہیں۔ لیکن میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ تحریک تسلسل کا نام ہے، تحریک تشدد کا نام نہیں ہے۔ امت کی وحدت اور قیادت کی وحدت ایک اچھی علامت ہے اور آج ختم نبوت ﷺ کے عقیدے کے عنوان سے آپ کو اس اتحاد و اتفاق کا منظر دیکھنے کو ملا ہے۔ انشااللہ ہم آنے والے مستقبل میں اس کے اچھے اور کامیاب نتائج کی توقع رکھتے ہیں۔ مولانافضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان سے آئے ہوئے تمام علما کرام یہاں صرف ایک حاضری دینے کے لیے نہیں آئے ہیں بلکہ وہ پاکستان کے برادر اسلامی عوام کا خیر سگالی کا پیغام بھی بنگلہ دیش کے برادر مسلمانوں تک لے کر آئے ہیں۔ دو بھائی اپنے گھر میں جائیداد تقسیم کر لیتے ہیں، اپنا اپنا گھر اور کاروبار بسا لیتے ہیں، لیکن ان کے بھائی چارے میں کوئی فرق نہیں آتا۔ بنگلہ دیش کا مسلمان ہو یا پاکستان کا، وہ ایک مسلمان قوت ہے، ایک امت ہے، ایک جماعت ہے۔ مولانافضل الرحمن نے کہاکہ آج کے اس اجتماع سے جہاں ہم نے عقیدے کے حوالے سے بات کی ہے، یہ دو ملکوں کے درمیان بہتر، مضبوط اور مستحکم تعلقات میں مزید اضافے کا سبب بنے گا۔ تمام علما کرام بات کر چکے ہیں اور اعلامیہ بھی جاری ہو چکا ہے۔ ظاہر ہے کہ مزید وقت لینا نماز کی تاخیر کا سبب بنے گا۔ میں اس بزیم اجتماع کے منتظمین و قائدین کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں اور آپ کی طرف سے بھی خیر سگالی کا پیغام لے کر پاکستان کے عوام تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ انشااللہ، دو برادر اسلامی ممالک مختلف شعبوں میں باہمی تعلقات کے خواہشمند ہیں اور اس راستے میں ہمارے قدم آگے بڑھیں گے۔ اگر آپ پیدل ہماری طرف آئیں گے تو ہم دوڑ کر آپ کی طرف آئیں گے۔ محبت کا یہ رشتہ انشا اللہ مزید مضبوط ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مولانافضل الرحمن نے الرحمن نے کہ طرف ا ئیں گے بنگلہ دیش کی طرف
پڑھیں:
ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
سری لنکا کی حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ فیس ختم کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں تعینات قونصل جنرل سری لنکا سنجیوا پٹیوالا نے میڈیا سے گفتگومیں بتایا کہ سری لنکن حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ فیس ختم کردی جس کے بعد سری لنکا جانے والے پاکستانیوں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے سری لنکا جانے والے ویزہ کی درخواست آن لائن دے سکتے ہیں۔
قونصل جنرل نے بتایا کہ پاکستان اور سری لنکن کے دوطرفہ تعلقات اہم ہیں، حکومت پاکستان نے 100 سری لنکن اسٹوڈنٹس کوعلامہ اقبال یونیورسٹی میں اسکالرشپ دی ہے جو ایک مثبت اقدام ہے۔
انہوں نے کاہ کہ پاکستان سری لنکا کےدرمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پرسن 2005 میں دستخط ہوئے تھے لیکن تاحال دونوں ملکوں میں ٹریڈ بیریئرز موجود ہیں۔
قونصل جنرل نے مزید کہا کہ پاکستان سری لنکا درمیان درمیان دفاعی تعلقات بھی اہم ہیں۔