Islam Times:
2026-07-24@15:11:26 GMT

جدید نصابِ تعلیم میں عشق کی اہمیّت

اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT

جدید نصابِ تعلیم میں عشق کی اہمیّت

اسلام ٹائمز: جو لوگ زمانے کے تقاضوں کے مطابق اپنی خود مختار عقل کی روشنی میں آئی اے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، وہ نہ صرف آئی اے کی طاقت سے فائدہ اٹھائیں گے بلکہ اس سے آگے رہیں گے، اپنے فیصلے خود کریں گے اور سماجی ترقی میں فعال کردار ادا کریں گے۔ جہاں بھی نصاب تعلیم، خود مختار عقل یعنی عشق کے مطابق ہوگا تو وہاں آئی اے کے عصر میں بھی انسان آزاد، بیدار اور خود مختار رہے گا اور اس کی سوچنے، سوال کرنے اور دلیل پر مبنی فیصلے کرنے کی صلاحیت زندہ رہے گی۔ اس کے برعکس جو زمانے کے ساتھ نہیں چلیں گے، وہ ہمیشہ کی طرح دوسروں کے غلام اور محتاج رہیں گے۔ وہ مصنوعی ذہانت کے دور میں بھی لیلیٰ مجنوں و ہیر رانجھا کی کہانیوں میں الجھے رہیں گے اور کرونا جیسی بیماریوں کا علاج لہسن اور ہلدی سے کرتے رہیں گے۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

آئی اے اور ڈیجیٹل دور میں "خود مختار عقل" کی اہمیت نئی معنویت اختیار کر گئی ہے۔ تکنیکی اور مصنوعی ذہانت کی ترقی نے انسانی فکر کے دائرے کو مزید وسعت  دے دی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ اس سے انسان کی خودی، اس کی خود مختار عقل اور اس کے ایمان و وجدان پس پشت چلے جائیں گے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ صرف معلومات کی بھرمار یا مشینی حساب کتاب میں انسان کو ڈھالنے سے انسان کی خودی، آزادی، خود مختاری، نیز ایمان اور وجدان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ "خود مختار عقل "انسان کو اندھی تقلید (خواہ اپنے نفس کی ہو یا اپنے اباو اجداد کی) اور بیرونی دباؤ (خواہ طاغوت و استکبار کا ہو یا حالات کا) سے آزاد کرتی ہے۔ اسی کو اقبالیات کی زبان میں عشق کہا گیا ہے۔ اقبال کے ہاں عشق یہ ہے کہ انسان اندرونی طور پر اپنی خواہشاتِ نفس اور بیرونی طور پر ہر طرح کے دباو، خوف اور لالچ سے آزاد ہو کر قدم اٹھائے۔

اقبالیات میں جو عشق مذکور ہے، اس سے انسان اپنے اعمال کا مالک بنتا ہے اور اسے اپنے ارادے، شعور، ایمان اور اپنے وجدان کی روشنی میں زندگی گزارنے کی سمت ملتی ہے۔ تعلیم و تربیّت کا مقصد انسان کو نفسِ امّارہ سے نفسِ مطمئنہ تک پہنچنے کا راستہ دکھانا اور نصاب تعلیم اسے خلیفۃُ اللّٰہ کے مقام تک لے جانے کے راستے کا نام ہے۔ اس راستے میں خود مختار عقل ایک ریل کی پٹڑی کی مانند ہے، جبکہ ایمان اور وجدان رہنمائی کا ستارہ اور اقبالیات روشنی کا چراغ ہیں۔ اقبال نے اپنے عہد میں انسان کے اندر جس خودی کی بیداری، ایمان کی روشنی اور وجدان کی جلا کی بات کی تھی، آج کے عہد میں وہ سب سے بڑی ضرورت بن گیا ہے۔ آج کا آئی اے دور انسان کو وسائل کی بھرمار دے سکتا ہے، مگر  "فیصلے کی آزادی، اخلاقی شعور اور اپنی ذات کی تخلیقی قوت" صرف انسان کی خود مختار عقل سے جنم لیتی ہے۔

خود مختار عقل یعنی عشق انسان کو بیدار کرتا ہے۔ انسان اور نظریہ دونوں کی عملی شکل کو بیداری کہتے ہیں۔ کیا عشق کی طرح اے آئی بھی دونوں کو بیدار رکھ سکے گی۔؟ انسان کی ظاہری بیداری کے علاوہ انسان کے اندر سوئے ہوئے امکانات  اور خوابیدہ صلاحیتوں کی بیداری بھی ایک لازمی امر ہے۔ ازل سے ہر بیدار مغز شخص کا ہم و غم یہی رہا ہے کہ سماج میں انسان اور نظریہ دونوں بیدار رہیں۔ حالتِ خواب میں پڑے ہوئے انسان کو کمزوری، جمود اور غلامانہ ذہنیت سے نجات دلانا ممکن نہیں۔ بیدار انسان وہ ہے، جو اپنی قوتِ ارادی اور اپنی ذات کے تخلیقی جوہر سے خود جنم لیتا ہے اور اپنی خواہشاتِ نفس سے آزاد ہو کر اپنی اقدار خود وضع کرتا ہے۔ یہی ہے وہ عاشق انسان، جو اپنے فیصلوں کے ذریعے اپنی ذات کو اس مقام تک پہنچاتا ہے، جہاں وہ کسی کا غلام نہیں رہتا بلکہ خدا کی مرضی کا آئینہ بن جاتا ہے۔ یہ بظاہر خود کے لیے جیتا ہے، لیکن حقیقت میں کسی نظریئے کے لیے زندگی بسر کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کیلئے عمل ہی نظریئے کا پیمانہ ہوا کرتا ہے۔

یاد رہے کہ ہر عمل نہیں بلکہ ایسا عمل جو کسی بیرونی دباؤ، کسی ظالم استعماری اتھارٹی یا خواہشِ نفس کے تابع ہو کر نہیں بلکہ اپنی خود مختار عقل کے فیصلے کے مطابق کرے۔ صرف اور صرف خود مختار عقل ہی قابلِ اعتماد ہے۔ اگر انسانی عقل خواہشاتِ نفس یا کسی بیرونی دباو کے تابع ہو تو پھر اُس میں اور دیگر حیوانات میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ یعنی کوئی انسان اگر اپنا کوئی عمل صرف کسی سزا کے خوف، یا انعام کی امید پر انجام دیتا ہو تو وہ خود مختار نہیں۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ معاشرہ تب ترقی کرتا اور آزاد ہوتا ہے کہ جب افراد اپنے فیصلے اندھی تقلید یا کسی دباو کے بجائے سوچ سمجھ کر دلیل کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ کیا اے آئی کے دور میں ایسا ممکن رہے گا۔؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ عقل اگر ایمان اور وجدان کے بجائے نفع و نقصان کے تابع ہو جائے تو محض حساب و منطق کی غلام بن جاتی ہے۔ جی ہاں سب سے بڑی سچائی تو یہی ہے کہ قومیں تب آزاد اور خود مختار ہوتی ہیں، جب اپنے فیصلے ایمان اور وجدان کے مطابق کریں۔ بصورتِ دیگر
عقل عیار ہے، سو بھیس بنا لیتی ہے
عشق بیچارہ نہ مُلّا ہے، نہ زاہد، نہ حکیم!

مذکورہ بالا تناظر میں عشق کی تفسیر ایمان و وجدان اور خود مختار عقل کے سوا کچھ اور نہیں کی جا سکتی۔ انسان کی نجات عقل کی خود مختاری میں ہے اور عقل اس وقت تک خود مختار نہیں ہوسکتی، جب تک ایمان اور وجدان انسان کے اندر زندہ نہ ہوں۔ تعلیم و تربیت اور اجتماعی شعور کو اقبالیات کے قالب میں ڈھالنے کیلئے نصابِ تعلیم کے اندر ایمان اور وجدان کو زندہ رکھنا ضروری ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کی خود مختار عقل زمانے کے سوالوں سے مکالمہ کرتی رہے۔ ایسی عقل کے تجربات معاشرتی حرکت کی بنیاد ہوا کرتے ہیں۔ غُلام عقل کالے انگریز اور کلرک تو پیدا کرسکتی ہے، لیکن سماج میں کوئی بیداری کی تحریک نہیں لاسکتی اور نہ ہی کسی تمدّن کو جنم دے سکتی ہے۔ جو انسان بیدار نہ ہو، یعنی خود مختار عقل نہ رکھتا ہو، وہ اپنی تقدیر بھی خود نہیں تراش سکتا۔ پس جو نصابِ تعلیم خود مختار عقل کی تولید نہ ہو، وہ قوم کی تقدیر کیا بدلے گا!۔

آخر میں یہ سوال کہ کسی بھی دور میں تعلیم کا مقصد انسان سے سوچنے، سوال کرنے اور دلیل پر مبنی فیصلے کرنے کی صلاحیت سلب کرنا ہرگز نہیں رہا، لیکن کیا اے آئی کے دور میں انسان کیلئے یہ سب ممکن رہے گا۔؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ زمانے کے تقاضوں کے مطابق اپنی خود مختار عقل کی روشنی میں آئی اے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، وہ نہ صرف آئی اے کی طاقت سے فائدہ اٹھائیں گے بلکہ اس سے آگے رہیں گے، اپنے فیصلے خود کریں گے اور سماجی ترقی میں فعال کردار ادا کریں گے۔ جہاں بھی نصاب تعلیم، خود مختار عقل یعنی عشق کے مطابق ہوگا تو وہاں آئی اے کے عصر میں بھی انسان آزاد، بیدار اور خود مختار رہے گا اور اس کی سوچنے، سوال کرنے اور دلیل پر مبنی فیصلے کرنے کی صلاحیت زندہ رہے گی۔ اس کے برعکس جو زمانے کے ساتھ نہیں چلیں گے، وہ ہمیشہ کی طرح دوسروں کے غلام اور محتاج رہیں گے۔ وہ مصنوعی ذہانت کے دور میں بھی لیلیٰ مجنوں و ہیر رانجھا کی کہانیوں میں الجھے رہیں گے اور کرونا جیسی بیماریوں کا علاج لہسن اور ہلدی سے کرتے رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایمان اور وجدان خود مختار عقل اور خود مختار کی خود مختار انسان کی خود اپنے فیصلے کے دور میں آئی اے کی کی روشنی انسان کو کے مطابق زمانے کے میں بھی کرتا ہے کریں گے رہیں گے کے اندر عقل کی اور اس رہے گا گے اور

پڑھیں:

سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت

ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔

سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔

سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔

سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
  • چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • زندگی کا مقصد
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا