Islam Times:
2026-06-03@02:08:27 GMT

جدید نصابِ تعلیم میں عشق کی اہمیّت

اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT

جدید نصابِ تعلیم میں عشق کی اہمیّت

اسلام ٹائمز: جو لوگ زمانے کے تقاضوں کے مطابق اپنی خود مختار عقل کی روشنی میں آئی اے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، وہ نہ صرف آئی اے کی طاقت سے فائدہ اٹھائیں گے بلکہ اس سے آگے رہیں گے، اپنے فیصلے خود کریں گے اور سماجی ترقی میں فعال کردار ادا کریں گے۔ جہاں بھی نصاب تعلیم، خود مختار عقل یعنی عشق کے مطابق ہوگا تو وہاں آئی اے کے عصر میں بھی انسان آزاد، بیدار اور خود مختار رہے گا اور اس کی سوچنے، سوال کرنے اور دلیل پر مبنی فیصلے کرنے کی صلاحیت زندہ رہے گی۔ اس کے برعکس جو زمانے کے ساتھ نہیں چلیں گے، وہ ہمیشہ کی طرح دوسروں کے غلام اور محتاج رہیں گے۔ وہ مصنوعی ذہانت کے دور میں بھی لیلیٰ مجنوں و ہیر رانجھا کی کہانیوں میں الجھے رہیں گے اور کرونا جیسی بیماریوں کا علاج لہسن اور ہلدی سے کرتے رہیں گے۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

آئی اے اور ڈیجیٹل دور میں "خود مختار عقل" کی اہمیت نئی معنویت اختیار کر گئی ہے۔ تکنیکی اور مصنوعی ذہانت کی ترقی نے انسانی فکر کے دائرے کو مزید وسعت  دے دی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ اس سے انسان کی خودی، اس کی خود مختار عقل اور اس کے ایمان و وجدان پس پشت چلے جائیں گے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ صرف معلومات کی بھرمار یا مشینی حساب کتاب میں انسان کو ڈھالنے سے انسان کی خودی، آزادی، خود مختاری، نیز ایمان اور وجدان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ "خود مختار عقل "انسان کو اندھی تقلید (خواہ اپنے نفس کی ہو یا اپنے اباو اجداد کی) اور بیرونی دباؤ (خواہ طاغوت و استکبار کا ہو یا حالات کا) سے آزاد کرتی ہے۔ اسی کو اقبالیات کی زبان میں عشق کہا گیا ہے۔ اقبال کے ہاں عشق یہ ہے کہ انسان اندرونی طور پر اپنی خواہشاتِ نفس اور بیرونی طور پر ہر طرح کے دباو، خوف اور لالچ سے آزاد ہو کر قدم اٹھائے۔

اقبالیات میں جو عشق مذکور ہے، اس سے انسان اپنے اعمال کا مالک بنتا ہے اور اسے اپنے ارادے، شعور، ایمان اور اپنے وجدان کی روشنی میں زندگی گزارنے کی سمت ملتی ہے۔ تعلیم و تربیّت کا مقصد انسان کو نفسِ امّارہ سے نفسِ مطمئنہ تک پہنچنے کا راستہ دکھانا اور نصاب تعلیم اسے خلیفۃُ اللّٰہ کے مقام تک لے جانے کے راستے کا نام ہے۔ اس راستے میں خود مختار عقل ایک ریل کی پٹڑی کی مانند ہے، جبکہ ایمان اور وجدان رہنمائی کا ستارہ اور اقبالیات روشنی کا چراغ ہیں۔ اقبال نے اپنے عہد میں انسان کے اندر جس خودی کی بیداری، ایمان کی روشنی اور وجدان کی جلا کی بات کی تھی، آج کے عہد میں وہ سب سے بڑی ضرورت بن گیا ہے۔ آج کا آئی اے دور انسان کو وسائل کی بھرمار دے سکتا ہے، مگر  "فیصلے کی آزادی، اخلاقی شعور اور اپنی ذات کی تخلیقی قوت" صرف انسان کی خود مختار عقل سے جنم لیتی ہے۔

خود مختار عقل یعنی عشق انسان کو بیدار کرتا ہے۔ انسان اور نظریہ دونوں کی عملی شکل کو بیداری کہتے ہیں۔ کیا عشق کی طرح اے آئی بھی دونوں کو بیدار رکھ سکے گی۔؟ انسان کی ظاہری بیداری کے علاوہ انسان کے اندر سوئے ہوئے امکانات  اور خوابیدہ صلاحیتوں کی بیداری بھی ایک لازمی امر ہے۔ ازل سے ہر بیدار مغز شخص کا ہم و غم یہی رہا ہے کہ سماج میں انسان اور نظریہ دونوں بیدار رہیں۔ حالتِ خواب میں پڑے ہوئے انسان کو کمزوری، جمود اور غلامانہ ذہنیت سے نجات دلانا ممکن نہیں۔ بیدار انسان وہ ہے، جو اپنی قوتِ ارادی اور اپنی ذات کے تخلیقی جوہر سے خود جنم لیتا ہے اور اپنی خواہشاتِ نفس سے آزاد ہو کر اپنی اقدار خود وضع کرتا ہے۔ یہی ہے وہ عاشق انسان، جو اپنے فیصلوں کے ذریعے اپنی ذات کو اس مقام تک پہنچاتا ہے، جہاں وہ کسی کا غلام نہیں رہتا بلکہ خدا کی مرضی کا آئینہ بن جاتا ہے۔ یہ بظاہر خود کے لیے جیتا ہے، لیکن حقیقت میں کسی نظریئے کے لیے زندگی بسر کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کیلئے عمل ہی نظریئے کا پیمانہ ہوا کرتا ہے۔

یاد رہے کہ ہر عمل نہیں بلکہ ایسا عمل جو کسی بیرونی دباؤ، کسی ظالم استعماری اتھارٹی یا خواہشِ نفس کے تابع ہو کر نہیں بلکہ اپنی خود مختار عقل کے فیصلے کے مطابق کرے۔ صرف اور صرف خود مختار عقل ہی قابلِ اعتماد ہے۔ اگر انسانی عقل خواہشاتِ نفس یا کسی بیرونی دباو کے تابع ہو تو پھر اُس میں اور دیگر حیوانات میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ یعنی کوئی انسان اگر اپنا کوئی عمل صرف کسی سزا کے خوف، یا انعام کی امید پر انجام دیتا ہو تو وہ خود مختار نہیں۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ معاشرہ تب ترقی کرتا اور آزاد ہوتا ہے کہ جب افراد اپنے فیصلے اندھی تقلید یا کسی دباو کے بجائے سوچ سمجھ کر دلیل کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ کیا اے آئی کے دور میں ایسا ممکن رہے گا۔؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ عقل اگر ایمان اور وجدان کے بجائے نفع و نقصان کے تابع ہو جائے تو محض حساب و منطق کی غلام بن جاتی ہے۔ جی ہاں سب سے بڑی سچائی تو یہی ہے کہ قومیں تب آزاد اور خود مختار ہوتی ہیں، جب اپنے فیصلے ایمان اور وجدان کے مطابق کریں۔ بصورتِ دیگر
عقل عیار ہے، سو بھیس بنا لیتی ہے
عشق بیچارہ نہ مُلّا ہے، نہ زاہد، نہ حکیم!

مذکورہ بالا تناظر میں عشق کی تفسیر ایمان و وجدان اور خود مختار عقل کے سوا کچھ اور نہیں کی جا سکتی۔ انسان کی نجات عقل کی خود مختاری میں ہے اور عقل اس وقت تک خود مختار نہیں ہوسکتی، جب تک ایمان اور وجدان انسان کے اندر زندہ نہ ہوں۔ تعلیم و تربیت اور اجتماعی شعور کو اقبالیات کے قالب میں ڈھالنے کیلئے نصابِ تعلیم کے اندر ایمان اور وجدان کو زندہ رکھنا ضروری ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کی خود مختار عقل زمانے کے سوالوں سے مکالمہ کرتی رہے۔ ایسی عقل کے تجربات معاشرتی حرکت کی بنیاد ہوا کرتے ہیں۔ غُلام عقل کالے انگریز اور کلرک تو پیدا کرسکتی ہے، لیکن سماج میں کوئی بیداری کی تحریک نہیں لاسکتی اور نہ ہی کسی تمدّن کو جنم دے سکتی ہے۔ جو انسان بیدار نہ ہو، یعنی خود مختار عقل نہ رکھتا ہو، وہ اپنی تقدیر بھی خود نہیں تراش سکتا۔ پس جو نصابِ تعلیم خود مختار عقل کی تولید نہ ہو، وہ قوم کی تقدیر کیا بدلے گا!۔

آخر میں یہ سوال کہ کسی بھی دور میں تعلیم کا مقصد انسان سے سوچنے، سوال کرنے اور دلیل پر مبنی فیصلے کرنے کی صلاحیت سلب کرنا ہرگز نہیں رہا، لیکن کیا اے آئی کے دور میں انسان کیلئے یہ سب ممکن رہے گا۔؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ زمانے کے تقاضوں کے مطابق اپنی خود مختار عقل کی روشنی میں آئی اے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، وہ نہ صرف آئی اے کی طاقت سے فائدہ اٹھائیں گے بلکہ اس سے آگے رہیں گے، اپنے فیصلے خود کریں گے اور سماجی ترقی میں فعال کردار ادا کریں گے۔ جہاں بھی نصاب تعلیم، خود مختار عقل یعنی عشق کے مطابق ہوگا تو وہاں آئی اے کے عصر میں بھی انسان آزاد، بیدار اور خود مختار رہے گا اور اس کی سوچنے، سوال کرنے اور دلیل پر مبنی فیصلے کرنے کی صلاحیت زندہ رہے گی۔ اس کے برعکس جو زمانے کے ساتھ نہیں چلیں گے، وہ ہمیشہ کی طرح دوسروں کے غلام اور محتاج رہیں گے۔ وہ مصنوعی ذہانت کے دور میں بھی لیلیٰ مجنوں و ہیر رانجھا کی کہانیوں میں الجھے رہیں گے اور کرونا جیسی بیماریوں کا علاج لہسن اور ہلدی سے کرتے رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایمان اور وجدان خود مختار عقل اور خود مختار کی خود مختار انسان کی خود اپنے فیصلے کے دور میں آئی اے کی کی روشنی انسان کو کے مطابق زمانے کے میں بھی کرتا ہے کریں گے رہیں گے کے اندر عقل کی اور اس رہے گا گے اور

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق