انتخابات میں شکست: لالو پرساد یادو کی بیٹی نے سیاست اور خاندان سے لاتعلقی کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
بھارتی ریاست بہار میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے ایک روز بعد لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ نے شکست سے دل برداشتہ ہوکر نہ صرف سیاست چھوڑنے بلکہ خاندان سے قطع تعلق کا اعلان کردیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر روہنی آچاریا نے لکھا:
’میں سیاست چھوڑ رہی ہوں اور خاندان سے بھی خود کو الگ کر رہی ہوں… یہی سنجے یادو اور رمیز نے مجھ سے کہا تھا… اور میں اس کا سارا الزام اپنے سر لے رہی ہوں۔‘
روہنی کے مطابق یہ دباؤ 2 افراد کی جانب سے آیا جنہیں تیجَسوی یادو کے قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ سنجے یادو راجیہ سبھا کے رکن اور آر جے ڈی لیڈر تیجَسوی کے بااعتماد معاون ہیں، جبکہ رمیز اُتر پردیش کے ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے ان کے پرانے دوست بتائے جاتے ہیں۔
I’m quitting politics and I’m disowning my family …
This is what Sanjay Yadav and Rameez had asked me to do …nd I’m taking all the blame’s
— Rohini Acharya (@RohiniAcharya2) November 15, 2025
روہنی آچاریہ، جو چند سال قبل اپنے والد کو گردہ عطیہ کرنے کے باعث سرخیوں میں رہیں، اس مرتبہ بہار انتخابات میں تیجَسوی کی مہم میں سرگرم تھیں۔ تاہم یہ قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ وہ لالو کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ یادو کی پارٹی سے بے دخلی پر ناخوش تھیں۔
اہلِ سیاست سے دور رہنے والی اور سنگاپور میں اپنے شوہر کے ساتھ مقیم روہنی کے اس اعلان نے آر جے ڈی کے اندرونی اختلافات کو ایک بار پھر سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
جمعہ کو آنے والے نتائج میں آر جے ڈی نے اپنی تاریخ کی دوسری بدترین کارکردگی دکھائی اور صرف 25 نشستوں تک محدود رہی۔
شکست کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں آر جے ڈی نے کہا کہ سیاست میں اُتار چڑھاؤ لازمی ہیں اور جماعت غریبوں کی آواز اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی ریاست بہار روہنی آچاریا لالو پرساد یادو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی ریاست بہار روہنی آچاریا لالو پرساد یادو آر جے ڈی
پڑھیں:
جی بی الیکشن:سکردو سےمسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی مل گئی
سکردو(نیوز ڈیسک)گلگت بلتستان انتخابات 2026 کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنما انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں،انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہوگی۔ الیکشن سے قبل ہی حاجی اکبر تابان امیدوار پاکستان مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی، مہا جرین 1971 نے مسلم ن کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
دوسری جانب چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور خاتون اول آصفہ بھٹو آج گلگت اور ہنزہ کا دورہ کریں گے، دونوں رہنما ہنزہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کریں گے جبکہ بلاول بھٹو زرداری کی گلگت میں پارٹی ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سکردو اور دیگر اضلاع میں انتخابی سرگرمیوں میں مصروف رہیں گے، وہ پارٹی رہنماؤں کے انتخابی دفاتر کا دورہ کریں گے اور کارکنان سے بھی خطاب کریں گے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق، عابد شیر علی، مرتضیٰ جاوید عباسی اور عابد رضا کوٹلہ مختلف مقامات پر جلسوں سے خطاب کریں گے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ن لیگی رہنما آج مجموعی طور پر چار مقامات پر عوامی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔ ادھر وفاقی وزیر انجنئیر امیر مقام بھی گلگت میں موجود ہیں جہاں ان کی مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں شیڈول ہیں۔ گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کی جانب سے ووٹرز کو متحرک کرنے کی کوششیں آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں ۔
مزید پڑھیں۔بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز