شبھمن گل گردن کی انجری کے باعث اسپتال منتقل، میچ سے باہر ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
بھارت کو جنوبی افریقہ کے خلاف جاری پہلے ٹیسٹ میچ میں بڑا دھچکا لگا ہے، کپتان شبھمن گل گردن کی انجری کے باعث ممکنہ طور پر باقی میچ سے باہر ہوسکتے ہیں۔
کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں کھیلے جارہے میچ کے دوسرے روز شبھمن گل صرف 4 رنز بنا کر میدان سے باہر چلے گئے اور انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
بھارتی کپتان کو یہ انجری جنوبی افریقی اسپنر سائمن ہارمر کی گیند پر سویپ شاٹ کھیلنے کی کوشش کے دوران آئی، جس کے نتیجے میں ان کی گردن میں شدید کھچاؤ پیدا ہوگیا، ڈریسنگ روم میں ابتدائی طبی امداد کے دوران انہیں گردن پر کالر پہنایا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق شبھمن گل کو بیٹنگ کے بعد گردن میں تکلیف اور حرکت میں رکاوٹ محسوس ہوئی، جس کے باعث صورت حال تشویشناک ہو گئی، بعد ازاں ہفتے کی شام سروائیکل کالر میں انہیں اسپتال جاتے دیکھا گیا۔
شبھمن گل فی الحال ڈاکٹرز کی زیرِ نگرانی رہیں گے اور انجری کی شدت جاننے کے لیے مزید ٹیسٹ کیے جائیں گے جس کے بعد علاج اور دستیابی سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شبھمن گل
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔