مسجد میں ڈرامے کی شوٹنگ پر دیپک پروانی نے اپنا تجربہ بیان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
معروف پاکستانی فیشن ڈیزائنر اور اداکار دیپک پروانی ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے کے باوجود پاکستانی میڈیا انڈسٹری میں اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں، انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں اپنی ذاتی زندگی اور اداکاری کے تجربات پر کھل کر بات کی ہے۔
دیپک پروانی متعدد ڈراموں میں اپنی اداکاری سے پہچان بنا چکے ہیں، اس وقت ڈرامہ جمع تقسیم میں اپنی شاندار کارکردگی کے باعث توجہ حاصل کر رہے ہیں، وہ ہر کردار میں اپنی موجودگی کا مضبوط تاثر چھوڑتے ہیں۔
دیپک پروانی نے ایک یوٹیوب شو میں گفتگو کرتے ہوئے مشترکہ خاندانی نظام میں پروان چڑھنے اور مسجد میں فلم بندی کے تجربے پر کھل کر بات کی۔
بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا کہ میں نے بچپن مشترکہ خاندانی نظام میں گزارا، ہم میرپورخاص میں رہتے تھے، پھر کراچی شفٹ ہوئے، وہ مکمل جوائنٹ فیملی تھی جہاں میری دادی ہر چیز خود پکاتی تھیں، ہم نے وہ وقت بہت انجوائے کیا، بعد میں وراثت کی تقسیم کے بعد سب الگ ہوگئے، بچوں کے لیے جوائنٹ فیملی بہت مزے کی ہوتی ہے۔
اداکاری سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ مسجد میں فلمبندی کے دوران مجھے کچھ جھجھک محسوس ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ سین ایسے تھے جنہیں کرنے میں مجھے تھوڑی جھجھک ہوئی، ان میں سے ایک سین مسجد میں شوٹ ہوا ہے جو جلد نشر ہوگا، میں نے پہلے کبھی ایسے سین نہیں کیے تھے، حتیٰ کہ اسلامی اصطلاحات بھی مشکل تھیں، جیسے تجوید لیکن ایکٹر کی رینج کا حصہ ہے کہ جب کردار لیں تو اسے پورا نبھائیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ٹیم نے جب پوچھا کہ کیا میں یہ سین کر پاؤں گا؟ تو میں نے کہا کہ ہاں، کیونکہ ایکٹر ہونے کے ناطے میرا کام ہے کہ ہر کردار پوری محنت سے ادا کروں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دیپک پروانی میں اپنی انہوں نے
پڑھیں:
ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
ارب پتی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم گروک امیجن (Grok Imagine) رواں سال کے اختتام سے پہلے قدیم یونانی رزمیہ شاہکار اوڈیسی پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ فلم شاعر ہومر کی اصل تخلیق کے مطابق ہوگی اور تاریخی اعتبار سے بھی زیادہ درست انداز میں پیش کی جائے گی۔
ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی یہ فلم ہومر کے اصل فن اور کہانی کی حقیقی روح کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ تقریباً تین منٹ طویل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر دکھایا گیا ہے۔
Before this year ends, Grok Imagine will make a full-length movie of The Odyssey that is historically accurate and true to the art of Homer https://t.co/bVHzUmY9WN
— Elon Musk (@elonmusk) July 22, 2026اس سے قبل بھی ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے اوڈیسی پر ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’میں تیار ہوں۔‘
دوسری جانب ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن کی فلم اوڈیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ نولن نے ایوارڈز حاصل کرنے کی غرض سے اصل داستان میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض اٹھایا، خاص طور پر اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں لینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک موقع پر نولن کو ’نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا‘ فلم ساز بھی قرار دیا۔
تاہم ایلون مسک کی تنقید کے باوجود کرسٹوفر نولن کی اوڈیسی نے باکس آفس پر شاندار آغاز کیا ہے۔ باکس آفس رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا، جس کے بعد اسے رواں برس کی نمایاں کامیاب فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔