data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کے حوالے سے نائب صدر کے عہدے کے امیدوار ایڈووکیٹ جی ایم لغاری نے اپنی انتخابی مہم کے دوران حیدرآباد لیگل کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور ترقی کے حوالے سے خصوصی گفتگو کی۔ ایڈووکیٹ جی ایم لغاری نے کہا کہ حیدرآباد کے وکلاء نہ صرف عدالتی نظام کا اہم حصہ ہیں بلکہ انصاف کی فراہمی میں بھی مرکزی کردار ادا کرتے ہیں اس لیے ان کی فلاح و بہبود، عزت اور سہولیات کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ قانونی برادری کے لیے عملی بنیادوں پر بہت سی نئی سہولیات متعارف کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کے کام کے لیے جدید سہولیات کی فراہمی، بار میں علمی و قانونی سرگرمیوں میں معاونت، جونیئر وکلاء کی تربیت کے لیے سیمینارز اور ورکشاپس کا سلسلہ شروع کرنا اور بیمار یا مالی مشکلات کا شکار وکلاء کے لیے فلاحی فنڈ کا قیام میرے اہم اہداف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں حیدرآباد کے ہر وکلاء کے ساتھ دن رات ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کروں گا، نہ صرف بار کی سطح پر بلکہ عدالتی اور انتظامی سطح پر بھی۔ انہوں نے زور دیا کہ بار ایسوسی ایشن کو ایک متحرک اور متحد قوت بنایا جائے۔ اور ایک منظم ادارہ بنانے کے لیے مشترکہ فیصلوں اور شفاف نظام کو آگے بڑھانا ضروری ہے، جس کے لیے میں اپنے تمام ساتھیوں کی رائے اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھوں گا۔ انتخابی مہم کے دوران کئی وکلا رہنماؤں اور قانونی شخصیات نے بھی ایڈوکیٹ جی ایم لغاری کی امیدواری کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جی ایم لغاری کا عملی تجربہ، دیانت اور خلوص حیدرآباد بار کے لیے مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جی ایم لغاری انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال

ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔

اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟