ہماری 2018سینیٹ الیکشن میں شناخت چھین لی گئی تھی،ہم کسی کےپاس شکایت لے کر نہیں گئے اور نہ روۓ، لیگی سینیٹرآغا شاہزیب درانی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ ن کے سینیٹرآغا شاہزیب درانی نے کہا ہے کہ ہماری 2018سینیٹ الیکشن میں شناخت چھین لی گئی تھی،ہم کسی کےپاس شکایت لے کر نہیں گئے اور نہ روئے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق پریزائیڈنگ افسر منظور کاکڑ کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے آغا شاہزیب درانی نے کہاکہ انہیں کس نے انٹراپارٹی الیکشن سے روکا تھا،یہ پڑھی لکھی جماعت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، برداشت مادہ نہیں،آپ کا نشان گیا تھا، آپ نے اپنی شناخت کیوں کھو دی،یہ ایک ہی ظلم و زیادتی کی بات کررہے ہیں۔
ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 7 ہزار 4 سو روپے کا بڑا اضافہ
لیگی سینیٹر نے کہاکہ مشرف کو کس نے ووٹ دیا، بانی پی ٹی آئی پولنگ ایجنٹ تھے،بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ مجھے سو ممبر دے دیں، میں وزیراعظم بنوں گا،ان کاکہناتھاکہ 2018میں آر ٹی ایس کس نے بٹھایا تھا،کس نے جلسے میں کہا تھا کہ آرمی چیف قوم کا باپ ہے۔
آغا شاہزیب درانی نے کہاکہ 52منٹ میں 52بل اسی ایوان سے پاس ہوئے، اس وقت جمہوریت کہاں تھی،انہوں نے پریذیڈنٹ ہاؤس کو آرڈیننس فیکٹری بنایا ہواتھا،مجرم سیاسی اسیر نہیں ہوتا، منی لانڈرنگ کرنے والا سیاسی اسیر نہیں ہوتا، رانا ثنا اللہ کیلئے آرڈر تھا کہ چینی گرائیں تاکہ کیڑے مکوڑے تنگ کریں۔
27ویں آئینی ترمیم میں ممکنہ تبدیلیاں سامنے آگئیں
ان کاکہناتھا کہ کون سا اسیر ہے جسے 8کمرے دیئے جاتے ہیں، دیسی مرغی اور شہد دیا جاتا ہے،اپوزیشن والے اپنی ترامیم لاتے، کمیٹی میں جاتے،یہ ہمیں بتاتے کہ اس آئینی ترمیم میں مسئلہ کیا ہے،لیگی سینیٹر نے کہاکہ کہتے ہیں آئینی کورٹ کیوں بننی چاہئے،سپریم کورٹ میں 50ہزار کیسز زیرالتوا ہیں وہ کیسے ختم کئے جائیں گے،ان کاکہناتھا کہ جرمنی، اٹلی او ر سپین بھی آئینی عدالت ہیں،آئینی عدالت سے کیا مسئلہ ہے وہ تو بیان کریں،ان کا انتخابی نشان جس قانون کے تحت چھینا گیا وہ آپ کے لیڈر نے بنایا تھا،آپ نے خود گڑھا کھودا جس میں گر گئے۔
جولائی تا ستمبر: عوام سے 110 ارب روپے کی اضافی پٹرولیم لیوی وصول
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ا غا شاہزیب درانی نے کہاکہ تھا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔