27ویں آئینی ترمیم کے اہم نکات کونسے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے سینیٹ کا اجلاس آج جاری ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ آئینی مسودے سے متعلق مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور حتمی مسودہ تیار ہوچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 27ویں آئینی ترمیم پاس ہوچکی، 28ویں ترمیم کی بات کریں، سینیٹر فیصل واوڈا کا دعویٰ
27ویں آئئنی ترمیم کے اہم نکات کیا ہیں، آئیے اس حوالے سے جانتے ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و اِنصاف کے چیئرمین فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مشاورت کا عمل 80 فیصد مکمل ہو چُکا ہے جبکہ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مشاورت کا عمل 85 فیصد تک مکمل ہو چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کی مشترکہ قانون و انصاف کمیٹی نے 27 ویں آئینی ترمیم کے سلسلے میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی تقرری صدر مملکت کریں گے۔ آئینی عدالت 7 ججز پر مشتمل ہو گی اور باقی ججز 6 ججز کی نامزدگی آئینی عدالت کے سربراہ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: 26ویں ترمیم عدلیہ کنٹرول کے لیے تھی، رہی سہی کسر 27ویں ترمیم میں پوری کی جارہی ہے، حافظ نعیم
قائمہ کمیٹی نے ججز ٹرانسفر کے حوالے سے آئینی ترمیم کی منظوری بھی گزشتہ روز دے دی تھی، اس ترمیم کے تحت جو جج ٹرانسفر پر رضامند نہیں ہوگا اسے ریٹائرڈ تصور کیا جائے گا، ریٹائرڈ جج کو مراعات اور پنشن دی جائے گی۔
اس ترمیم میں کچھ ردّوبدل تجویز کیا گیا ہے جس پر غور و حوض ہونا ابھی باقی ہے جس کے تحت ججز جن کا تبادلہ ہو گیا لیکن وہ جانے سے گریزاں ہیں انہیں فوری طور پر ریٹائر نہیں کیا جائے گا، تبادلے پر اعتراض کرنے والے ججز کا کیس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: جے یو آئی 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہیں دے گی، سینیٹر کامران مرتضیٰ
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزیر اعظم کے تاحیات استثنیٰ سے متعلق تجویز واپس لے لی گئی جبکہ وفاقی وزیرِ قانون نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وزیرِاعظم کو تو ویسے بھی استثنٰی حاصل ہوتا ہے۔
اے این پی نے 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں اپنی جانب سے خیبرپختونخوا کے نام سے خیبر ہٹا کر پختونخوا رکھنے کی ترمیم پیش کی، اور مؤقف رکھا ہے کہ خیبر ضلع ہے اور دیگر صوبوں میں نام کے ساتھ ضلع کا نام نہیں لکھا جاتا۔
قائمہ کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں زیر التوا مقدمات فیصلے کی مدت 6 ماہ سے بڑھا کر ایک سال کرنے کی ترمیم بھی منظور کر لی گئی، ایک سال تک مقدمہ کی پیروی نہ ہونے پر اسے نمٹا ہوا تصور کیا جائے گا۔
ایم کیو ایم کے بلدیاتی نمائندوں کو فنڈ سے متعلق ترمیم پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔
مشترکہ پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں بلوچستان اسمبلی کی نشستیں بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، بلوچستان اسمبلی کی کتنی نشستیں بڑھائی جائیں گی، اس پر بات ہونا باقی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 27ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ کے ذریعے جمہوری طریقے سے کی جا رہی ہے،سینیٹر عبدالقادر
اِس کے علاوہ آرٹیکل 243 میں ترمیم کے ذریعے سے آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے تخلیق کیے گئے ہیں۔ ترمیمی مسوّدے کے مطابق وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورس کا تقرر کریں گے جبکہ چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 کو ختم ہو جائے گا۔
اس ترمیم کے تحت حکومت مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے افراد کو فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کے عہدے پر ترقی دے سکے گی۔ فیلڈ مارشل کا رینک اور مراعات تاحیات ہوں گی یعنی فیلڈ مارشل تاحیات فیلڈ مارشل رہیں گے۔
ریٹائرڈ صدر کا صدارتی استثنیٰ برقرار رہے گا یا پھر استثنیٰ ختم ہو جائے گا، اس پر بھی حکومتی اتحادیوں نے غور کیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی سے متعلق معاملات ابھی تک طے نہیں پا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
27 consitution amendments آئینی ترمیم سینیٹ قومی اسمبلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سینیٹ قومی اسمبلی ئینی ترمیم کے ئینی عدالت فیلڈ مارشل جائے گا 27ویں ا
پڑھیں:
بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر
بلوچستان حکومت نے صوبے میں ایرانی پیٹرول(Irani Petrol) کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کر دی ہے، جبکہ مقررہ نرخ سے زائد وصولی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق صوبے میں ایرانی پیٹرول اب 280 روپے فی لیٹر میں فروخت کیا جائے گا، اور اس سے زیادہ قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ قیمتوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ سخت کر دی گئی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ شہری اگر کسی بھی مقام پر ایرانی پیٹرول کی زائد قیمت وصولی دیکھیں تو وہ اس کا ثبوت ویڈیو کی صورت میں محفوظ کر کے متعلقہ ڈپٹی کمشنر آفس میں شکایت درج کرا سکتے ہیں۔ حکومت کے مطابق عوامی شکایات پر فوری کارروائی کی جائے گی تاکہ ناجائز منافع خوری اور بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ کیا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
دوسری جانب بلوچستان میں مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث شہری پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے میں نئی قیمت کے تعین کو بعض حلقوں کی جانب سے ایک ریگولیٹری اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری مرتضیٰ خان کاکڑ نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے بھر میں پیٹرول مافیا کے خلاف فوری اور سخت کارروائی ناگزیر ہے، تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور قیمتوں میں بے ضابطگی کو روکا جا سکے۔
حکام کے مطابق آئندہ دنوں میں مارکیٹ پر مزید کڑی نظر رکھی جائے گی اور کسی بھی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔