این اے 66 ضمنی الیکشن ،وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کے بھائی ن لیگی امیدوار بلامقابلہ کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
این اے 66 ضمنی الیکشن ،وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کے بھائی ن لیگی امیدوار بلامقابلہ کامیاب WhatsAppFacebookTwitter 0 8 November, 2025 سب نیوز
گوجرانوالہ(آئی پی ایس ) وزیر آباد کے حلقہ این اے 66 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے امیدوار بلال فاروق تارڑ بلا مقابلہ کامیاب ہو گئے۔ریٹرننگ افسر کی جانب سے مسلم لیگ ن کے امیدوار بلال فاروق تارڑ کی بلا مقابلہ کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے اور فارم 34 الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا ہے۔ریٹرننگ افسر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن فارم 34 کی بنیاد پر کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کریگا۔
انہوں نے بتایا کہ حلقے میں 30 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے، سنی اتحاد کونسل اور پیپلز پارٹی سمیت 8 امیدواروں نے کاغذات واپس لے لیے تھے، دیگر امیدواروں نے کاغذات واپسی کا وقت گزرنے کے باعث ریٹائرمنٹ لے لی۔یاد رہے کہ این اے 68 وزیر آباد کی نشست سنی اتحاد کونسل کے احمد چٹھہ کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگرانفروشی ناقابل برداشت عوامی خدمت کیلئے کوشاں،چوہدری شفقت محمود چیف جسٹس آف پاکستان آئندہ ہفتے بیرون ملک جائیں گے آذری یوم فتح: پاکستان اور ترکیہ کا ساتھ کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا: صدر آذربائیجان اسرائیلی آرمی چیف کا فوج کو غزہ میں تمام سرنگوں کو فوری تباہ کرنےکا حکم وزیر قانون نے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کر دیا افغان طالبان کی ڈھٹائی، ثالثوں نے بھی ہاتھ اٹھا لیے، استنبول مذاکرات بے نتیجہ ختم عدالت کا علیمہ اور عظمیٰ خان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔