data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی افریقہ میں ہونے والے جی 20 سربراہ اجلاس میں امریکا کا کوئی سرکاری نمائندہ شرکت نہیں کرے گا،  جنوبی افریقہ میں افریکانر آبادی کے خلاف سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں افریکانرز جو ڈچ، فرانسیسی اور جرمن نسل سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں، ان  کے قتل اور ان کی زمینوں پر قبضے کے واقعات افسوسناک ہیں، یہ ایک مکمل شرمناک بات ہے کہ جی 20 اجلاس جنوبی افریقہ میں منعقد ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ   افریکانرز کو مارا جا رہا ہے، ان کی زمینیں اور فارم غیر قانونی طور پر چھینے جا رہے ہیں،  جب تک یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، کوئی امریکی سرکاری اہلکار اجلاس میں شریک نہیں ہوگا، وہ 2026 کا جی 20 اجلاس میامی میں منعقد کرنے کے خواہشمند ہیں اور اگر وہ اُس وقت بھی منصبِ صدارت پر رہے تو اجلاس کی میزبانی امریکا کرے گا۔

خیال رہے کہ جنوبی افریقہ رواں ماہ 22 اور 23 نومبر کو جی 20 اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے، جو دنیا کی بڑی معیشتوں پر مشتمل اس فورم کی روایتی سالانہ میٹنگ ہے،  ٹرمپ کے اس مؤقف نے نہ صرف سفارتی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے بلکہ جنوبی افریقہ کی میزبانی کے حوالے سے بھی بین الاقوامی سطح پر توجہ مبذول کرائی ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جنوبی افریقہ میں کہ جنوبی افریقہ جی 20 اجلاس

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل