ٹرمپ کا جنوبی افریقہ میں منعقدہ جی20 اجلاس میں نمائندے نہ بھیجنے کا اعلان، وجہ کیا بنی؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا کے کسی بھی حکومتی اہلکار نے اس ماہ کے آخر میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے گروپ آف 20 (جی20) سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی۔
ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں کہا کہ یہ ایک مکمل بدنامی ہے کہ جی20 اجلاس جنوبی افریقہ میں ہو رہا ہے۔ افریقانرز (جو ہالینڈ، فرانس اور جرمن نسل کے آباد کاروں کے وارث ہیں) کو قتل کیا جا رہا ہے اور ان کی زمینیں اور کھیت غیر قانونی طور پر ضبط کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ جنوبی افریقہ کے خلاف آپے سے باہر، جی-20 سے نکالنے کا مطالبہ
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ افریقانرز کو سیاہ فام اکثریتی ملک میں نسل کی بنیاد پر ظلم کا سامنا ہے، لیکن جنوبی افریقہ کی حکومت نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا، جب تک یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رہیں، کوئی امریکی حکومتی اہلکار اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔ میں 2026 میں جی20 اجلاس میامی، فلوریڈا میں منعقد کرنے کا منتظر ہوں۔
ٹرمپ نے پچھلے ماہ امریکی پناہ گزینوں کے لیے ریکارڈ کم حد مقرر کی تھی اور کہا تھا کہ پناہ گزینوں کی ترجیح زیادہ تر سفید فام افریقانرز ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس، جو 22-23 نومبر کو جوہانسبرگ میں ہونے والے جی20 اجلاس میں شرکت کرنے والے تھے، اب نہیں جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: ’سبسڈی نہ ملی تو واپس جنوبی افریقہ چلے جائیں گے‘، ٹرمپ کی ایلون مسک کو دھمکی
جنوبی افریقہ کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے فوری طور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ صدر ٹرمپ نے جنوبی افریقہ کی اندرونی اور خارجہ پالیسیوں پر بھی اعتراض کیا ہے، جن میں زمین کی پالیسی اور اسرائیل کے خلاف غزہ میں نسل کشی کے مقدمے جیسے مسائل شامل ہیں۔
اس سے قبل اس سال، وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی جنوبی افریقہ میں ہونے والے جی20 وزرائے خارجہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ امریکہ اگلے سال سے جی20 کی صدارت جنوبی افریقہ سے سنبھالنے جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ جنوبی افریقہ جی20 کانفرنس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنوبی افریقہ کانفرنس جنوبی افریقہ میں اجلاس میں جی20 اجلاس
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔