27ویں ترمیم پر اپوزیشن پیپلز پارٹی پر تنقید کر رہی ہے: شیری رحمٰن
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
— فائل فوٹو
پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ 27ویں ترمیم پر اپوزیشن پیپلز پارٹی پر تنقید کر رہی ہے، ہم 73 کے آئین پر کوئی قدغن نہیں آنے دی اور قربانی دی ہے۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے یہ اتفاق رائے کا دن ہے، ذرا سا پیچھے ہٹ کر مطالعہ کر لیں، پیپلز پارٹی نے اپنا تشخص برقرار رکھا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ آئینی ترمیم ان ایوانوں کا حق ہوتا ہے، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سب کے حقوق کے ضامن ہیں، اس آئینی ترمیم پر ہم نے طویل مشاورت نہیں کی۔
مسودہ کے مطابق وفاقی آئینی عدالت، آئین کی تشریح اور آئینی تنازعات کے فیصلے کرے گی، سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات واپس لے کر وفاقی آئینی عدالت کو دیے جائیں گے
شیری رحمٰن نے کہا کہ آپ آئین کا اور اس بل کا مطالعہ کر لیں، 18ویں آئینی ترمیم کا ریورس نہیں تحفظ ہو رہا ہے، وفاق پر پریشر بہت ہے اور ہم جانتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اصل ایشو پاکستان کے وسائل اور ان کی تقسیم کا ہے، ہم عوامی نمائندگی کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم نے حکومت سے کہا کہ ایوان میں لمبی بحث کروائی جائے، ہماری وجہ سے ہی یہاں بحث ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نیب سے متعلق تمام مقدمات آئینی عدالت سنے گی،نیب قانون میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ نیب مقدمات نہیں سن سکتی،نیب کے تمام مقدمات آئینی عدالت منتقل ہو گئے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سنایا۔
مزید :