وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے 27 آئینی ترمیم سینیٹ میں پیش کرنے جا رہے ہیں، ترامیم دو تہائی اکثریت سے منظور ہونگی تو آئین کا حصہ بنیں گی۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کابینہ میں 27 ویں آئینی ترمیم پر بریف کیا گیا، اجلاس میں آئینی عدالت کے قیام پر اتفاق رائے ہوا ہے، 27 ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، بل کی منظوری کے لیے حکومت، حلیف جماعتوں کے ساتھ شریک ہوگی۔اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد 27 ویں ترمیم کو جوائنٹ کمیٹی میں پیش کرنے کا کہا گیا ہے، چاہتے ہیں کہ کمیٹی میں بل کی شقوں پر سیر حاصل گفتگو ہو سکے۔ڈیموکریسی میں آئینی عدالت کے قیام پر اتفاق رائے ہوا ہے، ججز تبادلوں کا معاملہ جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا جائے گا جبکہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے لیے بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ججز ٹرانسفر پر بحث ہوتی رہی، یہ اعتراض اٹھایا جاتا رہا کہ وزیراعظم یا صدر کا کردار ہے، ججز ٹرانسفر کا معاملہ جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا جا رہا ہے۔وزیر قانون کا کہنا تھا آرٹیکل 243 کے اندر ماضی میں ہم نے بہت سارے سبق سیکھے ہیں، اسٹریٹجک اور دفاعی سبجیکٹ ہیں ان کے حوالے سے ہمیشہ خطے کے ممالک میں کافی بحث و مباحثہ رہا ہے، حالیہ پاک بھارت کشیدگی نے ہمیں بہت سبق سکھائے ہیں، اب جنگ کی ہیئت اور حکمت عملی مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے اپائمنٹ کے طریقہ کار اور کچھ عہدے پہلے آرمی ایکٹ میں تھے مگر 73 کے آئین کے وقت ان کا ذکر نہیں ہو سکا، ایک عہدہ فیلڈ مارشل کا ہے، اسی طرح دنیا میں رواجاً ائیر چیف کے لیے اور نیول چیف کے لیے بھی عہدے موجود ہیں، ان کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھا گیا ہے اور یہ تجویز دی گئی ہے کہ یہ جو اعزاز جن سے آپ نیشنل ہیروز کو نوازتے ہیں یہ رینک کے ساتھ ساتھ سیموریل ٹائٹل بھی ہے تو یہ آیا ان کے ساتھ تاحیات رہنا چاہئے یہ تجویز ہے، جہاں تک ان کی کمانڈ کا تعلق ہے وہ جو قانون میں موجود ہے اس کے مطابق ریگولیٹ ہوتی ہے وہ ریگولیٹ ہوتی رہے گی، اس حوالے سے مناسب ترامیم پارلیمان کے سامنے رکھی جائیں گی۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا آئینی ترامیم دو تہائی اکثریت سے منظور ہوں گی تو آئین کا حصہ بنیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ کا کہنا میں پیش کے لیے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن