اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کیلئے رجسٹریشن کاعمل مزیدآسان بنادیاگیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک :اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کےلئے رجسٹریشن کاعمل مزید آسان بنادیاگیا۔
محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق پروگرام کے تحت مختصر مدت میں30,600 گھروں کی تعمیر مکمل کی جا چکی ہے جبکہ 1,05,700 خاندانوں کو اپنے گھر بنانے کے لیے قرضے فراہم کیے گئے ہیں،جاری تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے69,200 خاندانوں کو دوسری قسط بھی جاری کر دی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق شہری آسان شرائط پر اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں،جن خاندانوں نے1 سے 3 سال کے اندر قرض واپس کر دیا، انہیں 20 فیصد رعایت دی جائے گی جبکہ 4 سے 6 سال میں قرض واپس کرنے والوں کو10 فیصد رعایت ملے گی،یہ مراعات شہریوں کو جلد ادائیگی کی ترغیب دینے اور گھر کی ملکیت کو آسان بنانے کے لیے دی جا رہی ہیں۔
اب درخواست دہندگان آن لائن رجسٹریشن کے ذریعے اپنے گھروں سے ہی سکیم میں شامل ہو سکتے ہیں جس سے عمل تیز اور شفاف ہو گیا ہے۔
ڈالر کی قیمت میں کمی
محکمہ ہاؤسنگ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اپنی چھت اپنا گھر پروگرام مزید جدید اقدامات کے ذریعے عوام کو مالی سہولت، محفوظ رہائش اور گھر کا خواب پورا کرنے میں مدد فراہم کرتا رہے گا،سرکاری ویب سائٹ پر سکیم کی تفصیلات بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو:
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔