پنجاب: دفعہ 144 میں توسیع، جلسوں اور دھرنوں پر پابندی برقرار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251103-08-26
لاہور( نمائندہ جسارت) محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 7 روز کی توسیع کر دی، ہفتہ 8 نومبر تک نافذ العمل رہے گی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب بھر میں ہر قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیوں، دھرنوں اور عوامی اجتماعات پر پابندی برقرار رہے گی، دفعہ 144 کے تحت 4 یا زاید افراد کے عوامی مقامات پر جمع ہونے پر مکمل پابندی عاید ہوگی۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں ہر قسم کے اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی ہوگی، جبکہ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی بھی اجازت نہیں ہوگی، البتہ لاؤڈ اسپیکر صرف اذان اور جمعہ کے خطبے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا، اشتعال انگیز، نفرت آمیز یا فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت اور تقسیم پر بھی مکمل پابندی عاید کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے واضح کیا ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کا فیصلہ امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، جنازوں اور تدفین پر نہیں ہوگا، جبکہ سرکاری فرائض کی انجام دہی پر مامور افسران و اہلکار اور عدالتیں اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ سیکورٹی خطرات کے پیش نظر عوامی جلوس و دھرنا دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہے، شرپسند عناصر عوامی احتجاج کا فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے ریاست مخالف سرگرمیاں کر سکتے ہیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے عوامی آگاہی کے لیے دفعہ 144 کے نفاذ کی بڑے پیمانے پر تشہیر کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دفعہ 144 کے کے لیے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔