آئینی ترمیم پر مشاورت کے لیے بنائی گئی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس، جے یو آئی کا واک آ ئوٹ
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
آئینی ترمیم پر مشاورت کے لیے بنائی گئی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس، جے یو آئی کا واک آ ئوٹ WhatsAppFacebookTwitter 0 8 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )27ویں ترمیم پر مشاورت کے لیے بنائی گئی قانون انصاف کی مشترکہ پارلیمانی قائمہ کمیٹی کا ان کیمرا ہوا جس میں جے یو آئی واک آٹ کرگئی۔جے یو آئی کی رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے کہا کہ ہمارے آرٹیکل 243 پر تحفظات ہیں اس آرٹیکل میں ترمیم کی مخالفت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا گیا کہ آج مسودے کو پاس نہیں کریں گے، ہمارے کہنے پر جو کچھ چھبیسویں ترمیم میں سے نکالا گیا تھا ان کو ستائیسویں ترمیم میں شامل کردیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ججز والے معاملے پر بھی ہمارے تحفظات ہیں
، پگڑی کس کی بھاری ہو گی، آئینی عدالت کے جج کی یا سپریم کورٹ کے جج کی؟عالیہ کامران نے کہا کہ ایڈوائزرز کی تعداد بڑھائی جاری ہے، ایک غریب ملک میں ایڈوائزرز کی تعداد بڑھانا عوام کا کون سا فائدہ ہے؟بعدازاں جے یو آئی اجلاس سے واک آٹ کرگئی۔پارلیمانی کمیٹی قانون و انصاف کا اجلاس ختم اور کل گیارہ بجے دوبارہ طلب کیا گیا ہے۔ جے یو آئی (ف) اب مشاورت کرکے بتائے گی کہ کل وہ اس اجلاس میں شرکت کرے گی یا نہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک فوج کا جنوبی وزیرستان کے عوام کیلئے مساجد کی شکل میں مقدس تحفہ پاک فوج کا جنوبی وزیرستان کے عوام کیلئے مساجد کی شکل میں مقدس تحفہ جنگ بندی پر ٹرمپ کے مشکور، دشمن کے 7 بہترین جنگی طیارے گرائے: وزیراعظم ایران میکسیکو میں اسرائیل کے سفیر کو قتل کرنے کی سازش کر رہا تھا، امریکا کا الزام ایشیاکپ ٹرافی کا معاملہ: پاکستان اور بھارت میں برف پگھلنے لگی، اہم شخصیات کی ملاقات ہوگئی،بی سی سی آئی کی تصدیق بڑے ہوائی اڈے نجکاری کیلئے پیش، پی آئی اے کے خریداروں میں اضافہ این اے 66 ضمنی الیکشن ،وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کے بھائی ن لیگی امیدوار بلامقابلہ کامیابCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔