کراچی: نوجوان کی موت پر 6 اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو ) کی حراست میں نوجوان عرفان کی موت کا مقدمہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 6 اہلکاروں کے خلاف درج کرلیا۔ذرائع ایف آئی اے نے بتایا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ اینٹی کرپشن سرکل میں ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ کے تحت درج کیا گیا۔ایف آئی اے کے ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں نے دوران حراست عرفان پر تشدد کیا جس سے اس کی موت ہوئی جب کہ اہلکاروں نے نوجوان کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا تھا۔مزید کہا گیا کہ نوجوان کی غیر قانونی گرفتاری سے متعلق تحقیقات جاری ہیں، مقدمے میں نامزد ملزم اے ایس آئی عابد شاہ اور پولیس کانسٹیبل آصف زیر حراست ہیں باقی 4 ملزم پولیس اہلکار مفرور ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔واضح رہے کہ 22 اکتوبر کو کراچی میں ایس آئی یو پولیس کی حراست میں مبینہ تشدد سے نوجوان عرفان جاں بحق ہوگیا تھا، جبکہ پولیس سرجن نے بتایا تھا کہ نوجوان عرفان کے پوسٹ مارٹم میں جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے۔ڈی آئی جی جنوبی سید اسد رضا نے بتایا کہ پولیس نے ایف آئی آر میں نامزد دو اہلکاروں (اے ایس آئی عابد شاہ اور کانسٹیبل آصف علی) کو گرفتار کر لیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایف ا ئی ا ایس ا ئی
پڑھیں:
کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
فائل فوٹوکراچی میں جیکسن کے علاقے میں بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کے مطابق 6 سالہ بچی کی لاش آج دوپہر کو جیکسن کے علاقے سے ملی تھی، ملزم کی گرفتاری کے لیے جیسے ہی پولیس پہنچی، اُس نے پولیس پر فائرنگ کردی۔
ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا، جس کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کل دوپہر کو لاپتا ہوئی تھی، آج اس کی لاش ملی، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔