کراچی: نوجوان کی پولیس حراست میں ہلاکت، 6 اہلکاروں پر مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
کراچی میں اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کی حراست میں 14 سالہ نوجوان عرفان کی ہلاکت کا مقدمہ 6 پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کر لیا گیا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، نامزد اہلکاروں نے دورانِ حراست تشدد کا ارتکاب کیا ہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق تشدد کے باعث محمد عرفان جاں بحق ہو گیا تھا، عرفان کی گرفتاری کے مقاصد کیا تھے؟ اس پر بھی تفتیش جاری ہے۔
حکام کے مطابق مقدمہ ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ 2022ء کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دیگر 4 پولیس اہلکار ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔