راولپنڈی: شادی شدہ خاتون سے متعدد بار زیادتی، کروڑوں ہتھیانے اور زہر دیکر قتل کرنےکے کیس میں پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
راولپنڈی میں خاتون کو بلیک میل، زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کے معاملے میں پولیس نے مقتولہ کی لاش سے حاصل ڈی این اے نمونے فرانزک لیب لاہور میں جمع کروا دیے۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ ہفتے ملزمان کے ڈی این اے نمونے بھی فرانزک لیب میں جمع کروائے جانے کا امکان ہے، پولیس نے گرفتار3ملزمان عدیل،موسی اور جواد کا 7روز کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کرلیا۔
گرفتار ملزم عدیل پیشہ کے اعتبار سے سنار،جواد پرائیوٹ بینک کا ملازم ہے، ملزمان کے خلاف مقتولہ کے شوہر کی مدعیت میں قتل،زیادتی کی دفعات کے تحت گوجر خان میں مقدمہ درج ہے۔
گزشتہ روز راولپنڈی کے تھانہ گوجرخان کے علاقے سٹی پیلس بابا رحیم شاہ کے علاقے میں انسانیت سوز واقعہ سامنے آیا تھا، جہاں مقامی جیولرز اور فنانس بینک کے ملازم نے ساتھی کے ساتھ مل کر شادی شدہ خاتون کے کروڑوں روپے مالیت کے زیورات ہتھیا کر لین دین کے معاملے میں پھنسایا اور پھر بلیک میل کرکے متعدد بار زیادتی کا نشانہ بناکر زہریلی گولیاں کھلا دیں۔
خاتون کی پراسرار حالات میں زہر خورانی سے جاں بحق ہونے کے بعد موبائل فون سے ہوشربا انکشافات کی ویڈیوز سامنے آئیں جس میں خاتون نے جیولرز اور ملزمان پر سود پر پیسے دے کر بلیک میل کرنے کا انکشاف کیا۔
پولیس نے متاثرہ خاتون کے شوہر کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی تھی۔
پولیس کے مطابق گوجر خان کے رہائشی شیراز آفتاب نے پولیس کو مقدمہ درج کراتے ہوئے بتایا کہ والد، اہلیہ اور گیارہ سالہ بیٹی ساتھ رہتے ہیں، طلحہ جیولرز کا مالک عدیل طویل عرصے سے خاندانی زیورات بنا رہا تھا اور اُس کے ساتھ ہمارے گھریلو مراسم بھی تھے۔
مدعی کے مطابق چار پانچ سال کے دوران اس نے اہلیہ سے مراسم قائم کیے جس کا مجھے علم نہ تھا، میں گھر پر موجود تھا کہ اہلیہ کی طبیعت اچانک خراب ہوئی اور اس نے قے شروع کردی، پوچھا تو اس نے کہا زندہ نہیں رہنا چاہتی زہر دیا گیا ہے۔
شوہر کے مطابق ریسکیو 1122 ایمبولینس بلوا کر زوجہ کو اسپتال منتقل کیا اس دوران اہلیہ نے بتایاکہ موبائل میں ویڈیوز موجود ہیں دیکھ لینا اور بتایا کہ طلحہ جیولرز کے مالک عدیل نے مجھے بھلا پھسلا کر شادی والے زیورات اور دیگر جو تقریبا 40 تولے سونا بنتا ہے لے لیا اور دکان پر موسیٰ نامی شخص سے ملایا جنہوں نے زیور لے کر تسلی دیکر فروخت کروادیا۔
’بار بار استفسار کرنے پر وہ مجھے موبی لنک فنانس بینک لےگئے اور بینک کے ملازم جواد سے ملوایا اور میرے زیورات میں کچھ زیورات جو تقریبا ڈیڑھ کروڑ روپے کے تھے جمع کروا کر میرے نام پر قرض لیا، بعد ازاں ملزم گھر آگیا اور چار لاکھ روپے طلب کرکے نہ دینے کی صورت میں دھمکیاں دیں کہ پولیس کو بلوالوں گا اور بلیک میل کرنا شروع کردیا‘۔
شوہر کے مطابق ملزمان نے دھمکی دی تھی کہ تمھارے خاوند کو مروا دیں گے کبھی کہتے تمہیں جیل بھجوا دیں گے اور بدنام کردیں گے، ڈر اور خوف کی وجہ سے گھر میں پڑے پرائز بانڈ اور نقدی اٹھا کر دیتی رہی جب انھیں یقین ہوگیا کہ مجھے اپنی مٹھی میں کرلیا ہے تو مختلف اوقات میں میرے ساتھ زنا بالجبر کیا اور مسلسل بلیک میل کرتے رہے ساتھ ہی سود اور بھتے کے نام پر رقوم ہتھیاتے رہے۔
مدعی مقدمہ نے مزید موقف اختیار کیا کہ میرے اور والد کے گھر سے کام پر جانے کے بعد وہ لوگ گھر آجاتے اور کبھی اہلیہ کو باہر بلواتے تھے۔ مدعی کے مطابق ہم لوگ کاروباری لوگ ہیں گھر میں گندم میں رکھنے والی گولیوں کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، عدیل، موسی اور جواد نے اہلیہ کو پہلے بلیک میل کیا پھر سود اور پھر بھتہ لیتے رہے انھوں نے اہلیہ کو یا تو گولیاں لا کر دیں یا خود پلائیں اور متعدد مرتبہ زیادتی کی، اہلیہ عزت اور طلاق کے خوف کی وجہ سے خاموش رہی۔
مذکورہ افراد نے اہلیہ کو لوٹ کر زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کردیا، اہلیہ کے فون میں تمام ویڈیوز موجود ہیں اور باقی باتیں اہلیہ نے مجھے بتائیں، معاشرے کے ناسوروں نے ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا۔
پولیس نے قتل اور مبینہ زیادتی کے جرم میں مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی، مقتولہ کا نزع کی حالت میں ویڈیو بیان اور اس سے پہلے کا شدید کرب میں ریکارڈ کیا گیا ویڈیوبیان بھی سامنے آیا ہے جس میں وہ جیولرز وغیرہ کو تمام معاملات کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔
اے ایس پی گوجر خان دانیال کاظمی کا کہنا تھا کہ مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پولیس نے کے مطابق نے اہلیہ بلیک میل اہلیہ کو
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔