شاعر مشرق کا فکر و فلسفہ برصغیر کے مسلمانوں کیلئے بیداری،خودی اور روحانی احیا کا سر چشمہ ہے، حسن محی الدین
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
منہاج القرآن کی سپریم کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ فکر اقبال ؒ کا مرکز خودی ہے جو انسان کو پستی سے نکال کر بلندی، ذمہ داری اور خدمت انسانیت کی طرف لے جاتی ہے۔ اقبال ؒ چاہتے تھے کہ مسلمان اپنی روحانی طاقت اور اخلاقی وقار کو پہچانیں اور دنیا میں خیر و عدل کے علمبردار بنیں۔ چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے حکیم الامت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے یومِ ولادت پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ شاعر مشرق کا فکر و فلسفہ برصغیر کے مسلمانوں کیلئے بیداری،خودی اور روحانی احیا کا سر چشمہ ہے۔ علامہ اقبال ؒ نے نوجوانوں میں جس شعور، ہمت اور بلند حوصلگی کی روح پھونکی آج اسی فکر کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے کہا کہ فکر اقبال ؒ کا مرکز خودی ہے جو انسان کو پستی سے نکال کر بلندی، ذمہ داری اور خدمت انسانیت کی طرف لے جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقبال ؒ چاہتے تھے کہ مسلمان اپنی روحانی طاقت اور اخلاقی وقار کو پہچانیں اور دنیا میں خیر و عدل کے علمبردار بنیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کا نظریاتی وجود اقبال ؒ کے افکار سے جڑا ہوا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اقبال ؒ کے پیغام کو صرف تقریبات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے نظام تعلیم، کردار سازی، قومی سوچ اور معاشرتی اخلاق کا حصہ بنائیں۔ علامہ اقبال ؒ کی فکر قرآن، سنتِ نبوی ﷺ اور رومی کی روحانی تعلیمات سے فیض یافتہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ علامہ اقبالؒ محض شاعر نہیں بلکہ وہ ایک صاحبِ بصیرت مفکر، دردمند مصلح اور ملتِ اسلامیہ کے ترجمان تھے۔ پروفیسرڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے کہا کہ اقبال ؒ کا پیغام علم و عرفان، عمل و ایثار اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے عبارت ہے۔ اُنہوں نے غلام ذہنوں کو خودی کی طاقت سے آزاد کرایا اور ملتِ اسلامیہ کے نوجوانوں میں حریتِ فکر کا جذبہ پیدا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب تک مسلمان اپنی روحانی خودی اور ایمانی غیرت کو پہچان نہیں لیتا، تب تک وہ اپنی تقدیر بدل سکتا ہے اور نہ ہی قوم کی حالت۔انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں امام غزالی ؒ، ابن عربی ؒ، مولانا رومی ؒ اور علامہ اقبال ؒچار ایسی شخصیات ہیں جن پر سب سے زیادہ علمی تحقیق ہو رہی ہے۔ اقبال ؒکی فکر ہمیں بتاتی ہے کہ امت کی نجات اور ترقی صرف قرآن و سنت سے وابستگی اور خودی کی بیداری میں مضمر ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج جب امتِ مسلمہ فکری انتشار، فرقہ واریت اور اخلاقی زوال کا شکار ہے، تو اقبالؒ کی فکر ہی امید کی کرن ہے۔ نوجوان نسل اگر اپنے کردار و عمل کو علامہ اقبالؒ کے نظریات کے مطابق ڈھال لے تو پاکستان حقیقی معنوں میں وہی اسلامی فلاحی ریاست بن سکتا ہے جس کا خواب علامہ نے دیکھا تھا۔ علامہ اقبال ؒ کی روحانی بصیرت آج بھی ہمیں دعوتِ عمل دے رہی ہے کہ ہم علم، ایمان اور کردار کے امتزاج سے اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو بحال کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ حسن محی الدین علامہ اقبال
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔