عفت عمر کا انڈسٹری میں کوئی دوست کیوں نہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف ماڈل و اداکارہ عفت عمر نے اب تک انڈسٹری میں کسی کو دوست نہ بنانے کی وجہ سے پردہ اُٹھا دیا۔
عفت عمر تقریباً تین دہائیوں سے انڈسٹری میں ہیں۔ انہوں نے ماڈلنگ اور اداکاری دونوں میں اپنا لوہا منوایا۔
انہوں نے حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ اتنے عرصے سے انڈسٹری میں رہنے کے باوجود ان کا کوئی دوست نہیں ہے۔
اداکارہ کا کہنا ہے کہ انڈسٹری میں کچھ لوگ ہیں جن کو مینٹورز کہہ سکتی ہوں کیونکہ انہیں میں اپنے سے بہتر سمجھتی ہوں لیکن کام کی جگہ کسی سے دوستی مشکل ہے، اس لیے میرا کوئی دوست نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرے لیے دوست وہ ہے جو آپ کے اچھے اور برے وقت میں آپ کے ساتھ کھڑا ہو لیکن شوبز کے لوگوں کے لیے ایسا کرنا بہت مشکل ہے، سب کی اپنی اپنی مجبوریاں ہیں۔
عفت عمر نے مزید کہا کہ محبت میں ایک دوسرے کے لیے جینے مرنے کا کوئی تصور نہیں ہوتا، کوئی کسی کے لیے کبھی نہیں مرتا، لوگ زندگی میں آگے بڑھتے ہیں اور یہی دنیا کی حقیقت ہے۔ ہر کوئی اپنی لکھی ہوئی زندگی اور تقدیر جیتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے ہارے ہوئے لوگ نہیں پسند جو رونا شروع کر دیتے ہیں کہ وہ مر جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔