32 سالہ مشہور بھارتی انفلوئنسر انتقال کر گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
دبئی میں مقیم معروف بھارتی ٹریول انفلوئنسر اور فوٹوگرافر انونے سود 32 برس کی عمر میں لاس ویگاس میں انتقال کر گئے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق انفلوئنسر کے اہل خانہ نے یہ افسوسناک خبر سوشل میڈیا پر ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعے شیئر کی۔
بیان میں کہا گیا کہ انفلوئنسر کا خاندان اس مشکل گھڑی میں پرائیویسی کی درخواست کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ مداح اس غم کے موقع پر اہل خانہ کے جذبات کا احترام کریں تاہم اہل خانہ کی جانب سے انونے سود کی موت کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
View this post on Instagramیاد رہے کہ انونے سود ٹریول ایک مشہور ٹریول انفلوئنسر تھے جن کے انسٹاگرام پر 14 لاکھ سے زائد فالوورز اور یوٹیوب پر تین لاکھ اسی ہزار سے زیادہ سبسکرائبرز تھے۔ وہ اپنی خوبصورت ٹریول فوٹوگرافی، ڈرون شاٹس اور متاثر کن ویڈیو اسٹوری ٹیلنگ کے ذریعے دنیا بھر میں مقبول ہوئے۔
انہیں تین سال مسلسل فوربز انڈیا کی ’’ٹاپ 100 ڈیجیٹل اسٹارز‘‘ فہرست میں شامل کیا جاچکا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔