جرمن حکومت نے کم از کم فی گھنٹہ اجرت بڑھا کر 14.60 یورو کر نے کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
جرمنی کی حکومت نے ملک میں کارکنوں کی کم از کم فی گھنٹہ اجرت ریکارڈ حد تک بڑھا کر 14.60 یورو کر دینے کی منظوری دے دی ، ایک دہائی پہلے کم از کم فی گھنٹہ اجرت کا نظام اپنانے کے بعد سے یہ آج تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔
جرمن میڈیا کے مطابق جرمن وزیر محنت بیربل باس نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے ملکی کارکنوں کی کم از کم فی گھنٹہ اجرت بڑھانے کی منظوری دے دی ہے اور اس میں پہلی بار اتنا زیادہ اضافہ کیا گیا ہے جتنا ماضی میں کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔
اس وقت ملک میں جزوقتی ملازمتیں کرنے والے کارکنوں کے لیے کم از کم فی گھنٹہ اجرت 12.
وزیر محنت نے وفاقی کابینہ کی طرف سے منظوری کے بعد کہا کہ جرمنی میں اب کئی ملین کارکنوں کو ان کی محنت کا واضح طور پر زیادہ معاوضہ ملے گا، اس اضافے پر عمل درآمد چونکہ دو مراحل میں ہو گا اس لیے جرمن آجر بھی اس قابل ہوں گے کہ دو سال کے عرصے میں اپنے ان اضافی اخراجات کو مناسب انداز میں برابر تقسیم کر سکیں۔
برلن میں چانسلر فریڈرش میرس کی قیادت میں مخلوط حکومت ہے جو میرس کی قدامت پسند یونین جماعت سی ڈی یو، اس کی ہم خیال باویرین پارٹی سی ایس یو اور مرکز سے بائیں طرف جھکاؤ رکھنے والی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی پر مشتمل ہے۔جرمن حکومت میں جونیئر کولیشن پارٹنر ایس پی ڈی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر محنت بیربل باس کے مطابق کم از کم فی گھنٹہ اجرت میں یہ اضافہ زیادہ انصاف پسندی کی طرف بڑا قدم بھی ہے اور ان کارکنوں کی محنت کا اعتراف بھی جو ہر صبح شام ہماری معیشت کو حرکت میں رکھتے ہیں۔
جرمن وزارت روزگار کے اعداد و شمار کے مطابق فی گھنٹہ اجرت میں اس اضافے سے تقریباً چھ ملین کارکنوں کو مالی فائدہ ہو گا۔اہم بات یہ ہے کہ کم از کم فی گھنٹہ اجرت 12.82 یورو سے بڑھا کر 14.60 یورو کر دینے کی سفارش ایک غیر جانبدار کمیشن نے کی تھی جس کا کام ہی یہی ہے کہ وہ ملک میں کم از کم اجرتوں کے منصفانہ ہونے پر نظر رکھے۔
یہ آزاد مینیمم ویج کمیشن جرمن ماہرین اقتصادیات، ٹریڈ یونین رہنماؤں ، آجرین اور کارکنوں کی تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ہوتا ہے۔اس کمیشن نے اپنی تازہ ترین تجاویز جون میں پیش کی تھیں جن کی اب وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔جرمنی میں کم از کم فی گھنٹہ اجرت کا قانون 2015ء میں متعارف کرایا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کم از کم فی گھنٹہ اجرت کارکنوں کی یورو کر بڑھا کر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔