Express News:
2026-07-24@06:58:00 GMT

قرضوں میں مزید اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT

تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران حکومت کے ذمے قرض میں تقریباً 10 ہزار ارب کا اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ میں کئی خدشات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ معاشی سست روی کا ہونا، شرح سود کے متعلق زرمبادلہ ذخائرکا دباؤ اور دیگر خطرات کا موجود ہونا۔ اس طرح اب مجموعی قرضہ 84 ہزار ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ اس بات کا اندازہ پیش کیا جا رہا ہے کہ جی ڈی پی کا تناسب 61 فی صد ہو سکتا ہے۔ ان خطرات میں سے ایک موسمیاتی تبدیلی بھی ہے۔

وزارت خزانہ کی کھڑکیوں کے پار ایک فائل جوکہ قرضوں کے بارے میں تھی، ایک عدد کراہ رہی تھی کہ 84 ہزار ارب روپے کا قرض۔ یہ وہ عدد 84 ہے جو کہ گزشتہ برس 83 تک رہا اور ایک سال کے بعد 84 ہزار ارب روپے چنگھاڑتا ہوا نمودار ہوا، جسے کوئی محسوس کرے یا نہ کرے غریب عوام محسوس کر رہے ہیں اور سہم بھی رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں ایک ہزار ارب روپے کا اضافہ ظاہر کر رہا ہے کہ اس میں سے بیرونی قرضوں کا تناسب 32 فی صد سے زائد ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ اس کی ادائیگی کے لیے اپنی پالیسی اپنی کرنسی کی گراوٹ اور کبھی کبھی اپنی خود داری بھی داؤ پر لگا رہے ہیں۔ یہاں پر یہ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں یہ تناسب GDP کا 70 فی صد سے کم ہو کر 60.

8 فی صد تک آنے کی امید ہے۔ جی ڈی پی کے یہ اندازے ہیں جوکہ 70 فی صد سے کم کرکے بتایا جا رہا ہے، درحقیقت قرض تو کم نہیں ہو رہا ہے۔ صرف تناسب کو بہتر دکھانے کی کوشش ہے کیوں کہ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کے قرضے کی پالیسی ’’ہائی رسک زون‘‘ میں داخل ہو چکے ہیں۔ جہاں تک شرح سود کی بات ہے تو جیسے ہی شرح سود میں اضافہ ہوتا ہے ہر نئے دن پرانے قرض کی قسط مزید بھاری ہو جاتی ہے۔

پاکستان کے زیادہ تر قرضے قلیل مدتی پالیسی کے ہیں جنھیں بار بار ری فنانس کرنا پڑتا ہے یعنی پرانے قرضوں کی قسط نئے قرضے کی قسط سے ادا کی جاتی ہے۔ اس طرز عمل نے معیشت کو ری فنانسنگ کے جال میں قید کردیا ہے۔

اور یہ سب ایسا منحوس چکر ہے کہ کوئی شخص ایک ادھار چکانے کے لیے دوسرا ادھار لے پھر تیسرا، پھر چوتھا قرض بھی، مختلف بھاری شرح سود کے ساتھ لینے پر مجبور ہو جاتا ہے، اگر شرح سود بڑھتی ہے تو ڈالرکا ریٹ بڑھتا ہے تو سمجھیں بجٹ توازن سے لے کر عام آدمی کی روٹی پانی تک سب کچھ لرز کر رہ جاتا ہے۔

حکومت عوام کے نام پر قرض لے کر خوب اسے خرچ بھی کر رہی ہے لیکن جس کے نام پر قرض لیا جا رہا ہے وہ مفلوک الحال ہے، اس مزدورکی ہتھیلی اب بھی خالی ہے، ساتھ ہی ڈالر کی رسد بھی کم ہو جاتی ہے اور ڈالر کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ کراچی کی بندرگاہ پر جب ایک درآمدی سامان کے کنٹینر کھلتے ہیں تو ڈالر کی طلب بڑھ جاتی ہے اور ہر قرض کی ادائیگی پر ڈالر کی اونچی اڑان روپے کو گرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اس طرح اب پاکستان کا ہر شہری قرض دار ریاست کے شہری کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اب حکومت کے پاس اختیار کم ہے اور مالیاتی اداروں کے پاس اختیارات زیادہ ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے کہ اب عالمی ادارے سے معاہدہ کرتے کرتے اپنے نفع نقصان کے بارے میں سوچنے سے بڑھ کر عالمی اداروں کے کہنے پر عمل کیے بغیر کچھ حاصل نہیں۔

قرض ایک ایسا منحوس چکر ہے جس میں رہ کر کوئی قوم فلاح و بہبود حاصل نہیں کر سکتی ہے۔ ہر سال بجٹ میں نئے وعدے کیے جاتے ہیں، نئے نعرے متعارف ہوتے ہیں، نئی اسکیموں کے تبصرے ہوتے ہیں لیکن دراصل سال کے خاتمے تک نہ اکثر اسکیموں پر عمل درآمد شروع ہوتا ہے اور نہ ہی تکمیل کی طرف جاتے ہیں۔ اس طرح اسکیمیں تو ختم ہو جاتی ہیں لیکن ادھوری چھوڑ کر۔

قرض لینا بدشگونی ہے۔ حکومت کو اپنے اخراجات کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو پہلے پہل بہت ہی کم تنخواہیں ملتی تھیں، پھر بھی اس میں سے بھی بچت کر لیتے تھے اور یہ بچت مجموعی طور پر بڑے سے بڑے سرمائے کی شکل میں نمودار ہوتی ہے اور یہ سرمایہ بڑے بڑے کارخانہ دار تاجر حاصل کرتے ہیں اور کم شرح سود کی ادائیگی پر یہ رقوم جوکہ بینکوں میں جمع ہوتی ہیں اپنے کام میں لاتے ہیں۔

اس طرح سے رقوم کی تشکیل ہوتی رہتی ہے۔ انھی رقوم کو حکومت قرض لے کر لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کرتی رہتی ہے اور عوامی منصوبوں کے لیے زیادہ رقوم اکٹھی ہو جاتی ہیں، اگر حکومت اپنے غیر ضروری اخراجات کو کم کر دے تو ایسی صورت میں کچھ رقوم کی بچت ہو سکتی ہے اور حکومت کو بھی اپنی روزمرہ ضروریات، اخراجات کے لیے بہت زیادہ رقوم لینے کی ضرورت نہ پیش آئے۔ اگر مراعات یافتہ طبقے کے لیے حکومت اپنی مراعات میں کمی کر دے تو بھی ایسی صورت میں اچھی خاصی بچت ہو سکتی ہے، لہٰذا یہ بات اگر مدنظر رکھی جائے کہ غریب عوام اتنا زیادہ قرض لینے کی متحمل نہیں ہو سکتے اور ان کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی لہٰذا اخراجات کنٹرول کیے جائیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہزار ارب روپے ہو جاتی ڈالر کی جاتی ہے ہے اور کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان